| امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر کا لندن کی تقریر کے دوران مصر اور افغانستان پر اظہارِ خیال | Array چھاپیے Array |
منجانب , CENTCOM Public Affairs شئیرمتعلقہ خبریں1 فروری کو امریکی مرکزی کمان کے کمانڈرجنرل جیمز میٹس نے لندن میں کولن کریمپ ہارن میموریل لیکچر دیا۔ ذیل میں ان کے تیارشدہ تاثرات پیش کئے جا رہے ہیں ﴿لیکن یہ تاثرات لفظ بہ لفظ پیش نہیں کیے گئے ہیں﴾: آپ کا شکریہ، ڈین۔ مسز کریمپ ہارن، ممتاز بھائیو اور بہنوں! یہاں کھڑے ہونا اور اپنے نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے آپ کی شرکت میرے لیے یقنناً ایک اعزازکی بات ہے۔ مجھے کبھی چیف کانسٹیبل کولن کریمپ ہارن سے ملاقات کا شرف تو نہیں حاصل ہوا لیکن پھر بھی ان کے ساتھ ایک رشتے کا احساس ہوتا ہے۔ اپنے ہم وطن ساتھیوں کی خدمت کیلئے وہ رائل میرین ریزرو اور امریکی میرینز، ایک کور جو کہ ہمارے برطانوی ورثے سے براہ راست پیدا ہوئی ہے کے رکن تھے، ہمارے ہاں ایک کہنا ہے کہ ایک میرین ہمیشہ ایک میرین ہی ہوتا ہے۔ تو مجھے اپنے ساتھی فوجی کی موجودگی کا احساس ہو رہا ہے اور یہ احساس بھی ہے کہ اس نے ہم پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے کہ آیا ہم اخلاقی انحطاط کے اس دور میں اپنی قیادت کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں یا نہیں اور کہ ہم ان میں توازن رکھ رہے ہیں اور کیا یہ ایک ایسا توازن ہے جو اس نے مغربی یار کشائر میں 7-7 کے بعد قائم رکھا ہے۔ اصل میں میں آپ کا انتہائی شکرگزار ہوں کہ آپ نے مجھے یہاں آنے کی سعادت بخشی ہے اور مجھے کُچھ باتیں عوام کے سامنے کہنے کا موقع ملا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مہذب لوگوں کی محفل کے سامنے مدعو ہونے کے بعد ان سے مخاطب ہونا حقیقت میں ایک اعزاز کی بات ہے۔ میں احساس تشکر کے بغیر کبھی بھی اس شہر میں نہیں آ سکتا تھا کیونکہ میں کئی بارآپ کے انتہائی اہل، حیران کُن حد تک اعلٰی جذبات سے بھرپور, فوجیوں کے شانہ بشانہ لڑائیاں لڑچکا ہوں، جو ہر مشکل وقت میں اپنی بہترین کارکردگی دکھاتے رہے ہیں۔ آج کی شام میں کئی موضوعات پر بات کرنا چاہوں گا لیکن کوشش رہے گی کہ میں بہترین نکات پر بات کروں، خاص طور پر سوال وجواب کے موقع پر میں کُھل کر بیان دینا چاہوں گا اور میری خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے خصوصی تعلقات کی مطابقت پر بھی کچھ لمحوں کے لیے بات کروں۔ یہ کوئی تاریخی شواہد نہیں بلکہ ایسی دو اقوام کیلئے استحکام کے ذریعے جو روشن خیالی کے دور میں پیدا ہونے والی اقدار کی بقا کا عہد کیے ہوئے ہیں، ان اقدار کا جن کی بازگشت ادب، اساسی دستاویزات اور ہماری جمہوریتوں کی روایات میں سنائی دیتی ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ آزادی کے دشمنوں نے ہم دونوں اقوام کو اپنا ہدف بنایا ہے، جیسے کہ دوسروں کو فرانس سے بھارت تک، فلپائن سے سپین تک، بالی سے اومان تک یہ سلسلہ جاری ہے یہاں تک کہ اس فہرست میں روس اور ترکی کا نام بھی شامل ہے۔ بہت سی وجوہات کی بنا پر ہم دونوں ممالک کو ان مخبوط الحواس لوگوں کی راہ میں رُکاوٹ سمجھا جاتا ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہم پر وار کر کے ہمیں ڈرا سکتے ہیں، لیکن یہ لوگ ہمیں سمجھتے نہیں ہیں۔ آپ ہی کے سابقہ جنگی قائدین میں سے ایک کا خلاصہ کرتا ہوں کہ آلیمین اور نارمینڈی اور آئیو جیما اور ظلم کو للکارنے والے سینکڑوں دیگر سورمائوں کی اولاد ہونے کے ناطے ہم کوئی روئی کے گولے نہیں ہیں۔ اور اب براہ راست اس کے رہنما ، ونسٹن چرچل نے جو کہا اور ان کا قول ہے کہ ہم نے انسان کے طور پر بلکہ اس کرہ ارض کے شہری بن کر اور نوع انسانی کا حصہ بن کر جینا سیکھ لیا ہے نہ کہ کبوتر کی طرح آنکھیں میچ رکھی ہیں اور جیسا کہ ایمرسن نے کہا کہ کسی کو دوست بنانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ پہلے آپ خود دوست بنیں، یہی ہمارے تعلقات کی خاصیت ہے کہ ہم ایک دوسرے کے بہادر دوست بنیں۔ یہاں 1940ء میں ایک وقت تھا جب تم ظُلم کے خلاف ہمارے بغیر کھڑے ہوئے اور اس شہر کے بہت سے باسی بموں کی نظر ہو گئے۔ لیکن 7 دسمبر، 1941 کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں پرل ہاربر پر حملے کے ساتھ حالات تبدیل ہو گئے ہیں۔ اس دن جو موت اور تباہی ڈھائی گئی، اس کے باوجود چرچہل پُر سکون تھا۔ کوئی امریکی مجھے غلط نہیں سمجھے گا اور اگر میں یہ اعلان کر دوں کہ امریکہ کو اپنے ساتھ پا کر مجھے سب سے زیادہ خوشی ملی ہے اورجب میں اپنی بہت سی جنگوں میں برطانوی فوجیوں کو اپنے شانہ بشانہ کھڑے دیکھتا ہوں میں دوبارہ یہی علان کرتا ہوں۔ پچھلی ایک دہائی کے دوران ہم نے جو تکلیفیں سہی ہیں ان کے بعد ہمارے دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور احترام کے رشتے مضبوط ہوئے ہیں کمزور نہیں ہوئے۔ آج ہم ایک ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیں ان قریبی تعلقات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایک صحت مند تعلق کو دور اندیشی، تعاون کے مضبوط جذبات اور توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن مشکل وقت میں ہم نے جو عہد کیے ہیں اور ایک دوسرے کو جو احترام دیا ہے ان کی وجہ سے ہماری دوستی دن دُگنی رات چوگنی مضبوط ہو رہی ہے۔ ہماری جمہوریتیں متاثر کرنے کی طاقت رکھتی ہیں۔ ہمارے وجود سے متاثر ہونے والے "دنیا کے شہری" آزادی و خود مختاری کے خواہشمند ہیں اور یہ ان کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں، جو نہ صرف آزادی سے ڈرتے ہیں، بلکہ استحصال، ظلم و ستم اور دہشت پر یقین رکھتے ہیں۔ اور اگرچے کُچھ تاریخ دانوں نے گزشتہ چند سالوں کے دوران امریکہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا ذکر کیا ہے لیکن جغرافیائی لحاظ سے اس چھوٹے سے جزیرے کا کردار ہے جو اس قدر خوش کن اور قابلِ ذکر ہے۔ دنیا بھر سے لوگ برطانیہ میں اچھی زندگی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے، اس کی اقدار، اس کی انفرادیت اور مجھے یہ کہنے دیں کہ اس کی آزادی سے لطف اندوز ہونے کے لیے جوق در جوق یہاں آتے ہیں۔ تاہم، میرے کام میں مجھے ان انگریزوں سے بھی فائدہ ہوا ہے جو مخالف سمت میں جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ پرامن، جانا پہچانا ماحول چھوڑا اور بیرون ملک چلے گئے، کچھ نے شاہی ملازمتیں اختیارکیں تو کچھ مہم جوئی کے شوق میں دیگرشعبوں میں چلے گئے کہ بہترین اور روش برطانیہ کی یہی تو خاصیتیں ہیں۔ برطانوی لوگوں کے یہاں پہنچنے پر انہیں اپنے شہریوں ،دنیا بھر کی اور ہماری جانب سے ستائش ملی اور یہ کہ کس طرح یہ لوگ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ امریکی مرکزی کمان کے کمانڈر کے طور پر میرا حالیہ کردار جو کہ 20 ممالک کا احاطہ کرتا ہے جن میں پاکستان سے لے کر لبنان، وسط ایشیا سے باب المندیب شامل ہیں، میں نے اتنے سارے سفر اور برطانوی سفارتکاروں اور فوجیوں کی تحریروں سے سیکھا ہے اور جارج میکڈونلڈ فریزر، جرٹریوڈ بل، ٹی ای لارنس، پیٹر ہوپکریک اور دیگر مصنفین کے تجربات اور وقت کی بندش سے ماورا تجربات سے فیض اٹھایا ہے۔ برطانوی لوگوں نے کئی نسلوں تک دنیا کو ہم سب کیلئے تبدیلی کے عمل سے گزرنے میں مدد دی ہے ان میں سے کچھ مشاہیر کا کام انتہائی فکرانگیز اور بصیرت آموز اور آج بھی اتنا ہی متعلقہ ہے جتنا کہ ایک دہائی قبل تھا۔ آج ہم برطانیہ کے مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کیلئے ترتیب دی گئی بصیرت سے بہرہ مند ہو رہے ہیں اور ان جگہوں پر برطانوی سفارتکاروں اور تاجروں نے اپنی کئی نسلیں گزاری ہیں یہاں تک کہ آج یہ جو تیونس اور مصر اور اس سے بھی آگے کے خطوں میں مظاہروں کی صورت میں عدم استحکام اور افراتفری دیکھتے ہیں اور یہاں امریکا اور برطانیہ استحکام اور انسانی قدروقیمت کے حوالے سے مفادات کا اشتراک رکھتے ہیں۔ مصر میں آنے والے دنوں میں کیا حالات اختیار کریں گے اس بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہو گا لیکن ہم پرامید ہیں کہ اس لہر کے جو بھی نتائج برآمد ہوں گے وہ مصری عوام کی خواہشات کے مطابق ہوں گے۔ ذاتی طور پر میں یہ کہوں گا کہ فوج کا حصہ ہونے کی وجہ سے جس کے مصر کی فوج کے ساتھ بھی دیرینہ تعلقات ہیں، ہمیں فخر ہے کہ مصر کی فوج امن وامان پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور ساتھ ہی انسانی حقوق کا احترام کرتے ہوئے لوگوں کو آزادی سے اپنے جذبات کا اظہار کرنے کا بھی موقع فراہم کر رہی ہے۔ عراق میں وسیع تربنیادوں پر وجود میں آنے والی حکومت طاقت کی تقسیم کے ڈھانچے کو مستقبل کی تعمیر اور توسیع کیلئے استعمال میں مصروف ہے۔ عراقی سیکورٹی فورسز نے عراق میں حکومت سازی کے تھکا دینے والے مرحلے میں عراقی عوام کی حفاظت میں لائقِ تعریف کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کی کارکردگی ہمیں موقعہ دے گی کہ ہم وہاں سے اپنی فوجیں نکالیں اور اس کے ساتھ ساتھ عراقی فورسز کو مزید تربیت دیں جو ہر قسم کے سکیورٹی فرائض میں کئی ماہ سے پیش پیش ہیں۔ خلیج اور وسطیِ ایشیا کے اردگرد ہم اپنے پارٹنرز کی مدد سے علاقائی امن و سلامتی پر کام کر رہے ہیں۔ دوطرفہ میزائل دفاعی نظام کو جوڑنے سے لے کر سمندری قذاقی کے انسداد کے لیے ٹیم ورک تک ہم ان دوستوں کے ساتھ ہیں جو بہتر مستقبل کے قیام کے خواہاں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایسے لوگ بھی ہیں جو طویل مدتی امن و سلامتی کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے عدم رواداری اور نفاق کے پیغام کو پھیلانا چاہتے ہیں تا کہ سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہو اور وہ اپنی تخریب کاری پر مبنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ درحقیقت، ایران خطے کا لاحق طویل مدتی چیلنج ہے کیونکہ اس نے مسلسل علاقائی اور عالمی استحکام کو خطرے سے دوچار کیا ہے۔ اس کے بھرپور ثقافتی ورثے اور تعلیم یافتہ آبادی کے باوجود ایرانی حکومت اپنی عوام کی اصل خواہشات سے مسلسل منہ پھیرے ہوئے ہے اور ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اپنی خواہش کو چھپانے میں بھی اسے کوئی خاص دلچسپی نہیں جس سے ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کا خطرہ بڑھتا ہے اور جو علاقے کو عدم استحکام کا شکار کر دے گی۔ ہم مشرقِ وسطیٰ کے امن عمل پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگرچے اسرائیل میرے فرائض میں نہیں آتا، لیکن امن عمل کے نتائج پورے مشرقِ وسطیٰ کو بڑے پیمانے پر متاثر کریں گے۔ امن عمل سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ صدر براک اوبامہ نے اپنے عہدہ صدارت کے پہلے دن سے ہی اسرائیل – فلسطین امن کو اپنی ترجیح میں شامل کر رکھا ہے لیکن چیلنجز بہت زیادہ ہیں اور اگر دونوں اطراف کے اچھے لوگوں کو کوئی کامیابی نہ ملے تو یہ نتائج پر غالب آ جائیں گے۔ ان تمام اور دیگر معاملات میں بھی ہم اپنے برطانوی ہم منصبوں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قوموں کے مفادات ہوتے ہیں لیکن دوست نہیں۔ اینگلو-امریکن شراکت محض مفادات پر مبنی نہیں ہے۔ معروف برطانوی مورخ جان کیگان نے ایک بار کہا کہ اتحاد اپنے مفاد کے لیے کیا گیا سمجھوتہ ہیں لیکن کچھ اتحاد مفادات سے بالاتر ہوتے ہیں۔ برطانیہ اور امریکہ کا اتحاد بھی ایسا ہی ہے۔ یہ بات ہمارے فوجیوں کے لیے بالخصوص درست ہے اور کئی دہائیوں تک ایک ساتھ کام کرنے کے بعد اور بالخصوص اپنی حالیہ جنگ کے دس سال میں برطانوی اور امریکی فوج میدانِ جنگ میں ایک دوسرے سے شیرِ وشکر ہے۔ ہمیں رُک کر ایک لمحے کے لیے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ فوج سے فوج کا یہ تعلق 'خاص تعلق' ہے۔ ایک امریکی فوجی اپنے کسی ساتھی کو اس سے بڑا خراج تحسین پیش نہیں کر سکتا کہ میں اسے جنگ میں شامل دیکھنا چاہتا ہوں اور امریکہ کے حوالے سے ہم ہمیشہ برطانیویوں کو جنگ میں شامل دیکھنا چاہتے ہیں۔ اب جبکہ ہم اس خوشگوار شام اور مہربان دوستوں کے درمیان ہیں، اب میں باہمی اعتماد کی گفتگو سے اس کے حقیقی مفہوم کی طرف بڑھتا ہوں۔ جنوبی افغانستان میں جہاں آپ کے اور ہمارے بچے افغان فورسز کے شانہ بشانہ ہم میں سے اکثر کی زندگیوں کے سب سے بڑے جنگی اتحاد، 49 اقوام جن میں گزشتہ برس نصف درجن مزید شامل ہو گئی ہیں، میں لڑ رہے ہیں۔ اور مجھے برطانیہ کے ان 350 خاندانوں تک اپنی تعزیت اور ہمدردی پہنچا دینی چاہیے، جو ہم امریکی ان کے لیے اپنے دلوں میں رکھتے ہیں، جن کے پیارے اپنی فوجوں کی لاج رکھتے ہوئے جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور ان میں سے 100 تو صرف 2010 میں ہی مارے گئے تھے۔ افغانستان کے اہم علاقوں میں دشمن منتشر ہو چکا ہے اور دفاع پر مجبور ہے۔ لیکن ہم اس انتظارمیں نہیں کہ انہیں دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملے، پچھلے ماہ امریکہ نے 1000 سے زیادہ امریکی بحری فوجیوں کی تعیناتی کی منظوری دی ہے تا کہ وہ لڑائی میں شامل ہوں اور تیزی سے دشمن کا پیچھا کیا جاسکے، جنوب مغرب کے علاقوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے جہاں آپ کے فوجی لڑرہے ہیں یہ فوجی میدان جنگ میں آپ کے پہلو میں آپ کے لیے کمر بستہ ہیں۔ ہمیں کوئی غلط فہمی نہیں کہ دشمن متشدد اور بزدل ہے جب ہم ایک ایسے دشمن کا سامنا کرتے ہیں جو مقامی بستیوں کو نشانہ بناتا ہے جیسا کہ کچھ عرصہ پہلے ہلمند میں ہوا جس میں معصوم عورتیں اور بچے ہلاک ہوئے تو ہمیں اس وحشیانہ بربریت کے خلاف اپنے آپ کو اور مضبوط کرنا چاہیے اور آگے اس سے بھی زیادہ سخت لڑائیوں کا سامنا کرنا ہو گا۔ معصوم افغان شہریوں اور ہمارے فوجیوں کی ہلاکتیں دل دہلا دینے والی ہیں لیکن امن و امان کے حوالے سے ترقی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ حقیقت کہ ترقی اور تشدد افغانستان میں اکھٹے چل سکتے ہیں ان کے لیے سمجھنا مشکل ہے جو کبھی افغانستان میں نہیں لڑے۔ جنگ کبھی بھی اتنی سیدھی نہیں ہوتی اور نا ہی یہ پیشن گوئی کی جا سکتی ہے کہ جنگ کس ڈگر پر جائے گی۔ افغانستان کے ان حصوں میں جب ہمارے فوجی اور افغان محافظ افواج لڑ رہی ہیں تو یہ ممکن ہے کہ آپ: ۔ ناوا منڈی میں آزادانہ گھومیں پھریں ۔ صحت مند بچوں میں مامونیت کا اثر پیدا ہو ۔ ان سڑکوں پر سفر کریں جو اب محفوظ ہیں ۔ بچوں اور بچیوں کو سکول جاتے دیکھیں ۔ اس سے بھی زیادہ خاص بات یہ کہ ہم نے سابقہ طالبان کے ساتھ مل کر کام شروع کر دیا ہے جو اب افغان حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ کئی ماہ پہلے میں نے بذات خود ان میں سے کچھ جنگجوؤں سے مزار شریف میں بات کی وہ خوش بھی تھے اور پر جوش بھی کہ اب وہ فاتح گرو کے ساتھ ہیں۔ بعض اوقات ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے نتائج بڑے ہوتے ہیں یہ سب کچھ پہلے 18 سے 20 مہینوں میں موئژ حکمت عملی اور بہترین سازوسامان سے لیس ہونے سے ممکن ہوا۔ افغان فوج کا معیار اب اس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد سے میل کھا رہا ہے۔ فلسفیانہ طور پر دیوالیہ پن کا شکار دشمن ہماری نیٹو افواج کے سامنے ایک آسان ہدف ہے اور اس لیے بہتری آ رہی ہے۔ ہم اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ایک ایسا ذرعی معاشرہ جسے 30 سال پہلے سویت حملے نے شکست و ریخت کی حد پر پہنچا دیا اب اسے دوباوہ اٹھنے میں سخت مشکلات کا سامنا پیش آئے۔ لیکن مجھے ان نان کمشنڈ افغان نوجوان افسروں اور جونیئر افسروں سے مثبت خبریں ملتی ہیں جو میدان جنگ میں ہیں اورافغان لوگوں سے رابطے میں ہیں اور اس پیغام میں حقیقت بھی ہے اور یہ پیغامات ہمارے ان فوجیوں کی طرف سے باقاعدہ آتے ہیں جو جنگ میں لوگوں کے درمیان موجود ہیں۔ دو ہفتے پہلے افغان پارلیمنٹ کا ایک اجلاس ہوا۔ پچھلے سال جولائی کی طرح درجنوں وزراء آئے۔ شدت پسندوں نے قسم کھائی کہ شہر پر حملہ کریں گے اور اجلاس منعقد کرنے کے قابل نہیں چھوڑیں گے۔ دونوں مرتبہ دشمن کو شکست ہوئی اور اب کابل افغان فورسز کی حفاظت میں ہے۔ لمبے عرصے سے طالبان کے زیر اثر قندھار اور ہلمند، جب ہمارے پاس جنوب کی آبادی کی حفاظت کے لیے ناکافی فوج تھی یہ طالبان کا گڑھ تھا اب ہماری فورسز کے نہ رکنے والے حملوں کے آگے جھک گئے ہیں۔ 2010 دشمن کے لیے برا سال تھا اور 2011 میں ہم پر اور بھی شدید حملے کریں گے لیکن یہ لڑائی مشکل ہو گی حتکہ ایساف ISAFفورسزکے لیے بھی یہ مشکل ہو گی۔ ۔ ہمارے پاس اب میدان جنگ میں دشمنوں سے نپٹنے اور ان کے شکار کے لیے زیادہ فوجی نہیں کیونکہ اب ہماری توجہ لوگوں کی حفاظت پر ہے۔ ۔ اور ان معتدل سردیوں میں جنہیں فرصت کے دن سمجھا جاتا ہے میں بھی لڑائی جاری ہے۔ اب یہ ہوا چل رہی ہے کہ دشمن بھیس بدلتا ہے اور واقعی بدلتا ہے ہم بھی زیادہ تیزی سے اور مضبوط مقام سے بدل بدل کے وار کر رہے ہیں۔ مقامی افغان پولیس کی کوششیں ان علاقوں میں جہاں وہ کبھی آزادی سے کام کرتے تھے طالبان قوتوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں اور یہ کوششیں حکومتی اختیار اور مقامی دفاعی قوتوں کے لیے بھی مدد گار ثابت ہو رہی ہیں۔ ہاں باغی بھیس بدلیں گئے: وہ افغان محافظ فورسز میں گھسنے کی کوشش کریں گے اور نوزائیدہ مفاہمتی عمل کو نقصان پہچانے کی کوشش کریں گے اور یقیناً باغیوں کا پسندیدہ ہتھیار، خود ساختہ دھماکہ خیز مواد، ہمارے فوجیوں اور شہریوں دونوں کو نقصان پہنچائیں گے۔ تاہم سخت امتحان سے گزری حفاظت جو کہ پچھلے سال کم کم دکھائی دیتی تھی اب زیادہ جگہوں پر مضبوط نظر آ رہی ہے۔ جنرل نک کارنر جنہیں میں کئی ماہ پہلے افغانستان میں ملا تھا کے الفاظ تھے کہ ہم نے دوبارہ شروعات کر دیں ہیں۔ دشمن اب ایک دوراہے پر کھڑا ہے کہ کیا وہ رک کر لڑے یا چھپ کر فوج کے جانے کا انتظار کرے؟ نیٹو کی 2014 تک ذمہ داریاں افغان حکومت کے حوالے کر دینے کا عزم اس مشن کو ایک منطقی مقصد دیتا ہے۔ -جیسے کہ میں نے پہلے کہا کہ کابل اب زیادہ تر افغان محافظ فورسز کے قبضے میں ہے اور زبردست نتائج دے رہا ہے۔ -جیسے کہ صدر براک اوبامہ نے دسمبر 2009 کی مغربی مرکز تقریر میں کہا تھا کہ ہم اس سال جولائی میں تبدیلی کا عمل شروع کریں گے۔ ہماری سرگرمیاں (یعنی باغی مخالف اور دہشت مخالف) میں تیزی، دیہات کے مستحکم کی وسعت کا آپریشن اورافغان لوگوں کے اپنے مستقبل پر اعتماد میں اضافے کے بعد طالبان اور القاعدہ دونوں 2001 کے بعد سب سے زیادہ دباؤ میں ہیں اور ہم اس دباؤ کو جاری رکھنا چاہتے ہیں اور یہ سرحدی علاقے میں القاعدہ روپوش ہو گئی ہے کیونکہ افغان فوجی محافظ فورسز کی تعداد اور معیار میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اب افغانستان میں اپنی محفوظ پناہ گاہوں، ٹھکانوں کو محفوظ نہ پا کرطالبان نے عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے کے لیے بلا امتیاز حملے شروع کر دیے ہیں، لیکن ان حملوں سے وہ لوگوں کے دل جیت نہیں پا رہے ہیں۔ ایسی جنگ جس میں لوگوں کا اعتماد اتنا ہی ضروری ہوتا ہے اور اسی میں اصل فتح ہوتی ہے اور ایسی غلطیاں تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔ ہماری اب تک کی کوششیں اتنی عارضی تو نہیں لیکن انہیں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ طالبان ہمارے بہاؤ کو الٹانے کی کوشش کریں گے اور کھوئی ہوئی آبادی اور علاقے کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے لیکن وہ ہمارے فوجیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ہمارے فوجیوں کا ہتھیار دشمن سے بہت مختلف ہے، وہ ان کی درندگی کا مقابلہ اپنے اخلاق کی طاقت سے کرتے ہیں۔ اس لیے اس بات کو ختم کرنے کے لیے: ۔ ایساف اور ہمارے افغان ساتھی اہم اضلاع میں لوگوں کی حفاظت کے لیے اپنی سرگرمیوں کو بڑھائیں گے۔ ۔ ہم ایک باقاعدہ افغان محافظ فوج کی نشوونما میں مدد کریں گے، ہماری توجہ قیادت کے ابھار اور اس بات پر ہو گی کہ باغی ان کی صفوں میں نہ گھسیں۔ ۔ ہم ایک طرف القاعدہ اور اس کی ساتھی تنظیموں کو منتشر کر رہے ہیں اور شکست دے رہے ہیں تو دوسری طرف ایساف اور افغان ساتھی باغیوں کے نیٹ ورک کو توڑ رہے ہیں۔ ۔ اور ہماری افغان اور بین الاقوامی فورسز قانونی حکومت اور عالمی برادری کے تعاون سے معاشی ترقی میں مدد کر رہی ہیں۔ اس خاص تعلق کی بات کریں تو ہم دوبارہ جُڑ چکے ہیں، مشترکہ دشمن کے خلاف خون، پسینے اور آنسوؤں میں ایک ہیں۔ جب امریکی اور برطانوی فوجی ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بشانہ دشمن کی پُر زور کاروائیوں کے خلاف اکھٹے لڑ رہے ہوتے ہیں تو اس کاروائی میں ہم اکٹھے شریک سمجھے جاتے ہیں۔ قرون وسطی کے اس دشمن کے خلاف جو انسانوں کو انسانی حقوق دینے سے انکار کرتا ہے۔ قندھار، جون 2002، طالبان کے 5 سالہ دورِ حکومت میں ایک لڑکی بھی سکول نہیں گئی۔ جب سینکڑوں بچے اور بچیاں سکول جانے کے لیے گلیوں میں دوڑ پڑے تو میں کھڑا دیکھ رہا تھا۔ وہ شانہ بشانہ گلیوں میں کھڑے افغان اور امریکی فوجیوں کے پاس سے گزر رہے تھے اور طالبان کی طاری کی ہوئی جہالت کے خلاف تعلیمی انقلاب شروع کر رہے تھے۔ آگے اس بات کو ذہن نشیں کر لیں کہ ہم ایک نیک مقصد کے لیے لڑ رہے ہیں اور دل گردے کومضبوط رکھیں۔ ان تجربات کو محفوظ رکھنے کے لیے جنہیں میں اور آپ جمہوریت کہتے ہیں ہمیں یاد رکھنا ہو گا: ۔ کہ میں اور آپ آزاد پیدا ہوئے ہیں -اور یہاں آزاد زندگی ہم اپنی مرضی سے گزار رہے ہیں -اس آزادی کو اگلی نسل تک پہنچانے کی ہماری ذمہ داری ہے ہمیں اس ذمہ داری میں ناکام نہیں ہونا چاہیے جب کہ ہم نے پہلی سٹافورڈ اور ڈیزرٹ ریئس کو 1991 میں قریب سے دیکھا ہے اور ان کے ساتھ چلے ہیں ساتویں بکتر بند بی ڈی ای کے ڈیزرٹ ریئس 16ویں فضائیہ لڑاکا 3 کمانڈر برگیڈیئر میں ایک بیرونی مبصر کے طور پر بھی آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ اگر ہم آپریشن ٹیلک میں یو کے بکتربند ڈویژن میں اتنے بھاری بھرکم دباؤ کے تحت جس کا آپ کی فوج کو سامنا ہے ہم پلہ دلیر فوجیوں کے شانہ بشانہ لڑائی میں جاتے ہیں تو یہ خوشی کی بات ہو گی۔ اس بحث میں کہ عالمی برادری ان تنازعات کا حل کیسے تلاش کرے گی برطانیہ ایک لمبا عرصہ ہم آواز رہا ہے اور رہے گا۔ ایک فوجی کے طور پر جو اپنے آپ کو حفاظت کے لیے وقف کر دیتا ہے ہمیں ان مسائل پر توجہ دینی چاہیے اور اپنی بہترین پیشہ ورانہ نصیحت بھی دینی چاہیے اور اس وجہ سے نہیں کہ ہم معمار قوم بننا چاہتے یا ہم اپنی وسعت بڑھانا چاہتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ جنہوں نے جنگ یا دہشت کا عمل دیکھا ہے انہیں ہر قیمت پر روکنا چاہیے۔ ہماری قوموں کو مشکل معاشی حالات کا سامنا ہے۔ برطانیہ اور امریکہ دونوں میں حکومتوں کی ہدایت ہے کہ دفاہی اخراجات نئے وسائل کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ لڑائی کے بیچوں بیچ اس طرح کٹوتی کرنا جتنا مشکل ہے اس مشکل کو اپناتے ہوئے ہی ہمیں اپنے مقصد کی ترجیحات طے کرنی ہیں۔ ہمارے دونوں ملکوں میں سیاسی قیادت کا ماننا ہے کہ قومی سلامتی کسی بھی آزاد اور ترقی پسند معاشرے کی بنیاد ہے۔ اپنی قوم کو بچانے کے لیے ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ انہیں بہترین عسکری مشورے فراہم کریں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ ہمیں کیا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری قومیں اس مشکل وقت سے نکل سکیں۔ ہمارے قائد نتائج پرست ہیں اور ان خطرات کو بھانپ سکتے ہیں۔ جیسا صدر بارک اوبامہ نے نوبل امن انعام قبول کرتے وقت کہا کہ دنیا میں برائی موجود ہے اور ہم پر تشدد تنازعات ختم نہیں کر سکتے۔ عدم تشدد ہٹلر کو نہیں روک سکا تھا اور القاعدہ بھی بات چیت پہ ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ ہمارے سیاسی قائدین نے دیکھا ہے کہ یہ دشمن نیویارک سے میڈرڈ اور لندن سے ممبی تک شیطانیت پھیلا رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے نا معقول ارادوں سے باز آنے والے نہیں، اور جیسا کہ ہم افغانستان میں آج کی تاریخ کا سب سے بڑا فوجی اتحاد دیکھ رہے ہیں، ذمہ دار فوجیں اکھٹی ہو رہی ہیں۔ انہیں اپنے آپ کو اور ان کے چاہنے والوں کی حفاظت کے لیے تمام ذرائع استعمال کرنا ہوں گے۔ ان ذرائع کو اپنی طاقت مجتمع کرنا ہو گی۔ جیسا کہ صدر اوبامہ نے کہا تھا کہ صرف یہ یقین کہ امن کہ ضرورت ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کولن نے اپنا اخلاقی توازن برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف اپنے پیچ کی حفاظت کی بلکہ دشمن کی نوعیت کو بھی پیچانا ہے۔ مسز کریمپ ہارن، میرا ماننا ہے کہ آپ کے خاوند اس مقصد کے لیے کھڑے ہوئے جو ایک بہترین تھا اور جس طرح سے آج ہماری فوجیں کھڑی ہوئیں ہیں اس پر انہیں فخر ہو گا اور یہ فوجیں ہمیشہ ہماری آزادی اور معصومیت کے لیے اکھٹی لڑیں گی۔ |