| سی ایم ایف نے ایرانی ماہی گیروں کی طبی درخواست کی بنیاد پر کشتی میں کارروائی کی | Array چھاپیے Array |
منجانب , Combined Maritime Forces شئیرمتعلقہ خبریں5 جنوری کو یو ایس ایس مومسین ڈی ڈی جی -92 صومالیہ کے ساحل سے 400 سمندری میل شمال کی جانب سیشلز میں ایرانی ماہی گیروں کی کشتی پر طبی ایمرجنسی میں مدد کر رہے ہیں۔ امریکی بحریہ فوٹو/جاری کردہ
مانامہ، بحرین 6 جنوری 2010 ۔ 5 جنوری کو مشترکہ سمندری فورسز سی ایم ایف نے صومالیہ کے ساحل سے 400 سمندری میل کی شمالی جانب سیشلز میں ایرانی ماہی گیروں کی طبی درخواست پر ایک کشتی میں مدد پیش کی۔ کشتی سے اس وقت مدد کی اپیل کی گئی تھی جب اس کے عملے کے ارکان میں سے ایک کو انجن مرمت کرتے ہوئے سر پر شدید چوٹ لگی تھی۔ اس موقعے پر امریکی تباہ کار یو ایس ایس مومسین [ڈی ڈی جی ]92 جہاز ، جو کہ مشترکہ ٹاسک فورس 151 سی ٹی ایف 51، سی ایم ایف کا انسدادِ قذاقی مشن کے ساتھ تعینات ہے، قریب ترین جہاز تھا۔ مومسین کے طبی عملے نے ایک پندرہ سالہ زخمی لڑکے کا علاج کیا تھا۔ خوشی قسمتی سے اس کی چوٹیں گہری نہیں تھیں اور اسے مزید طبی امداد کے لیے کہیں لے جانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ سی ایم ایف کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر سوزی تھامسن آر این کا کہنا ہے کہ ہمیں خوشی ہے کہ مشترکہ سمندری فورسز ایک مرتبہ پھر ہنگامی حالت میں طبی امداد دینے میں کامیاب رہی ہیں۔ تمام ممالک کے میرینر ایک دوسرے کی مدد کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور یہ بھی کُچھ ایسا ہی ایک موقعہ تھا۔ ہمیں یہ بھی خوشی ہے کہ اس لڑکے کے زخم سنگین نہیں تھے اور وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہی رہا۔ سی ٹی ایف 151 کا کام قذاقی کا مقابلہ کرنا، اسے روکنا اور ختم کرنا اور کسی بھی ملک سے تعلق رکھنے والی کشتی کی حفاظت کرنا اور خلیج عدن اور صومالی بیسن میں آزاد سمندری سفر کو یقینی بنانا ہے۔ نیٹو اور ای یو نیو فار کے قواعد و ضوابط کے مطابق سی ٹی ایف 151 بین الاقوامی انتخابی راستہ [آئی آر ٹی سی] میں گشت کرتی ہے اور قذاقی کے تدراک کے لیے بہترین طریقہ کار اختیار کرتی ہے۔ سی ایم ایف بحرین میں واقعہ سمندری شراکت ہے جس کے رکن ممالک کی تعداد 25 ہے اور جو بحری جہازوں، ہوائی جہازوں اور افرادی قوت کی شکل میں مشن کی مدد کرتے ہیں۔ سی ایم ایف مشرقِ وسطیٰ کے سمندروں میں لگ بھگ 2.5 کروڑ مربع میل بین الاقوامی پانیوں کی حفاظت کرتی ہے اور دہشتگردی کو شکست، قذاقی کے تدارک، علاقائی تعاون کی حوصلہ افزائی اور سمندری ماحول کو محفوظ بنانے کا عزم کیے ہوئے ہے۔ |