گیٹس: افغانستان میں پیشرفت توقع سے زیادہ ہے Array چھاپیے Array
منجانب Karen Parrish, American Forces Press Service

واشنگٹن 16 دسمبر 2010 - وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ گزشتہ موسم گرما میں افغانستان میں فوجوں کی تعداد بڑھانے سے توقعات سے بڑھ کر نتائج حاصل ہوئے ہیں۔

وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ جب سے 30,000 اضافی فوج یہاں پہنچی ہے، اس کے بعد تین سے چار ماہ کے دوران ہونے والی فوجی پیشرفت میری توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔

رابرٹ گیٹس، وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن، میرین کور کے جنرل جیمز ای کارٹرائٹ، مشترکہ افواج کے نائب چیئرمین آج وائٹ ہائوس میں صدر باراک اوبامہ کی جانب سے افغان۔پاکستان حکمتِ عملی کے سالانہ جائزے کی شروعات کی تقریب میں شریک تھے۔

صدر کے مختصر خطاب کے بعد گیٹس نے افغانستان۔پاکستان کے علاقوں میں القاعدہ کی سرگرمیوں کو معطل، منتشر اور ختم کرنے کے اہداف حاصل کرنے میں ہونے والی پیشقدمی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

رابرٹ گیٹس نے کہا کہ آج طالبان پہلے سے کہیں زیادہ کم علاقے کو کنٹرول کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ہفتہ قبل اپنے دورہ افغانستان میں انہوں نے ملک بھر میں امن و سلامتی قائم کرنے کے لیے امریکی اور اتحادی افواج کی کوششوں کا مشاہدہ کیا اور میدانِ جنگ میں فوجوں سے ملاقاتیں کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود اس بات کا مشاہدہ کیا کہ کیسے بین الاقوامی اور افغان فوجوں نے طالبان کی کامیابیوں کا تسلسل توڑا اور اب ان کے روایتی گڑھوں قندھار اور ہلمند میں بھی انہیں مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ میدان جنگ میں لڑنے والوں میں فتوحات کا احساس واضح دیکھا جا سکتا ہے۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ اتحادی فوجوں اور ان کے افغان ہم منصبوں نے قندھار میں نئے علاقوں پر قبضہ کیا، انہیں کلیئر کیا اور محفوظ بنایا اور اب اپنے نئے سکیورٹی زونز کو صوبہ ہلمند سے جوڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ بعض علاقوں میں شدید لڑائی جاری ہے تاہم اس میں طالبان کی کامیابیوں کا تسلسل توڑا بھی جا رہا ہے۔

رابرٹ گیٹس نے کہا کہ جیسا کہ ہمیں خدشہ تھا اور ہم نے خبردار بھی کیا تھا کہ امریکی، اتحادی اور افغان فوجیں عرصہ دراز سے طالبان کے زیرِ اثر علاقوں میں داخل ہونے پر شدید نقصان اٹھائیں گی۔ اسی طرح ملک کے مشرقی علاقوں میں بھی لڑائی میں شدت آئی ہے۔ لیکن جاری لڑائی کی وجہ سے طالبان آج اس سے کہیں زیادہ کم علاقے پر کنٹرول رکھتے ہیں جس قدر ان کے پاس ایک سال قبل تھے۔ گیٹس نے کہا کہ مزاحمت کاروں کی سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے افغان سکیورٹی کی کلیدی اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جائزے میں ان کی تعداد اور صلاحیت میں اضافے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

رابرٹ گیٹس نے اس بات کی اشارہ کرتے ہوئے کہ افغان فوج دارالحکومت کابل میں سکیورٹی کی ذمہ دار ہے جبکہ قندھار میں بھی ان کی پیشقدمی جاری ہے جہاں وہ جنگی قوت کا 60 فیصد حصہ ہیں اور کہا کہ اس سال 65,000 فوجی لڑائی میں شامل ہوئے ہیں اور ان میں سے ہر ایک بندوق چلانا جانتا ہے اس کے برعکس نومبر 2009 تک یہ تعداد اس سے ایک تہائی تھی۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ اتحادی فوجوں کے ساتھ مل کر ان کی کارکردگی اچھی رہی ہے اور تربیت، سامان اور سپورٹ کے ذریعے اس میں مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقامی سکیورٹی اداروں کو بہتر بنانے سے مقامی آبادیوں کو طالبان سے زیادہ محفوظ بنانے میں مدد ملے گی جبکہ مزاحمت کاروں کے لیے نقل و حرکت بھی مشکل ہو گی۔

گیٹس نے کہا کہ جیسا کہ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ خطے میں امریکی حکمتِ عملی کی کامیابی کے لیے پاکستان کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔

پاکستان کے حوالے سے رابرٹ گیٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان سرحد کے ساتھ ساتھ انتہا پسندوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنے کے لیے اپنی 140,000 ہزار فوج ان علاقوں میں لگا رکھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچے امریکی حکام سمجھتے ہیں کہ عسکریت پسندوں کو سرحد پار کر کے افغانستان میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے پاکستان کو مزید کوششوں کی ضرورت ہے اور اسے ایسا کرنا بھی چاہیے، لیکن یہ یاد رکھنا بھی اہم ہے کہ دو برس قبل تک قبائلی علاقوں میں اس قسم کے آپریشن کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا اور اس کے ساتھ پاکستانی فوج پاکستان میں آنے والے تاریخی سیلاب سے بھی نبردآزما ہے جس نے ملک کے بیشتر حصے کو تباہ کر ڈالا ہے۔

وزیرِ دفاع نے اس امید کا اظہار کیا کہ صدر کے اہداف حاصل کر لیے جائیں گے۔ جیسا کہ صدر صاحب اور وزیرِ خارجہ کلنٹن نے کہا ہے کہ افغانستان میں ہماری پیشقدمی نہایت نازک ہے اور اسے واپس بھی کیا جا سکتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ہم صدر صاحب کی جانب سے گزشتہ برس طے کیے گئے اہداف جنہیں لزبن میں نیٹو کے سربراہ اجلاس میں بھی قبول کیا گیا تھا حاصل کر پائیں گے۔ رابرٹ گیٹس نے کہا کہ یہ اہداف تھے کہ افغان فوج اگلے سال سکیورٹی انتظامات سنبھالے اور 2014 کے آخر تک ملک بھر میں امن و امان کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے۔

رابرٹ گیٹس نے کہا کہ سکیورٹی انتظامات کی منتقلی، جیسے کہ کابل میں، پہلے ہی شروع ہو چکی ہے جبکہ موسمِ بہار اور گرما میں اس عمل میں مزید تیزی آئے گی اور پھر زمینی حالات کے پیش نظر یہ عمل جاری رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی بات کا اختتام شکریہ اور اپنی فوجوں، بالخصوص جو افغانستان میں برسرِ پیکار ہیں، اور ان کے اہل خانہ کو چھٹیوں کی مبارکباد دے کر کرنا چاہوں گا۔ انہی لوگوں کی قربانیوں سے یہ پیشرفت ممکن ہوئی ہے اور مجھے شرمندگی ہے کہ ہم آنے والے مہینوں اور سالوں میں ان سے مزید قربانیوں کا تقاضا کریں گے۔ اس موقعے پر وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا کہ جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ حکمتِ عملی کے کلیدی حصے ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک کو اس عمل میں شامل کرنا، افغانستان اور پاکستان میں سفارتی ذرائع کا استعمال اور فوجی کوششوں کو غیر فوجی ذرائع سے تقویت دینا خطے میں امریکی حکمتِ عملی کے اہم حصے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں ہم نے صرف فوجوں میں اضافہ نہیں کیا۔ ہمارے شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو دو سال پہلے 320 تھی اب 1,100 ہے۔

ہمارے مشن کی کامیابی کے لیے شہری، فوج اور ہمارے بین الاقوامی اور افغان ساتھیوں کے درمیان باہمی اور قریبی تعلقات بہت ضروری ہیں۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اقتصادی ترقی اور گورننس کا دائرہ کار بڑھانا ہلمند اور قندھار میں تعمیرِ نو کے جاری عمل کے لیے بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اور گزشتہ سال حاصل ہونے والی کامیابیاں برقرار رکھنے کے لیے بھی یہ اہم ہوں گے جیسا کہ ہم افغانوں کو اختیارات منتقل کریں گے۔ کلنٹن کا کہنا تھا کہ امریکی حکمتِ عملی میں اس نکتے کو سمجھا گیا ہے کہ افغانستان کی تعمیرِ نو ایک عالمی عہد ہے اور افغانستان میں نیٹو کی بین الاقوامی سکیورٹی امدادی فورس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب اس میں 49 ممالک شریک ہیں۔ اتحادی ارکان میں دیگر قوموں کے ساتھ نیٹو اور اسلامی ممالک کی تنظیم بھی شامل ہے۔

ہیلری کلنٹن نے کہا کہ گزشتہ برس لزبن میں ہونے والی نیٹو کانفرنس ہماری بین الاقوامی کوششوں کا مظاہرہ تھی جس میں عالمی اتحاد نے افغانستان میں طویل مدتی شراکت اور افغان حکومت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا عہد کیا۔

وزیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور پاکستان میں گہرے دوستانہ تعلقات بھی خطے میں حکمت عملی کی کامیابی کے لیے مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔

ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ ہم خالصتا لین دین پر مبنی فوجی تعاون سے کہیں آگے نکل آئے ہیں۔ گزشتہ برس قائم کیے گئے سٹریٹجک ڈائیلاگ کے ذریعے پاکستان اور امریکہ نے صرف سکیورٹی بلکہ توانائی، زراعت، تعلیم، صحت اور ایسے دیگر شعبوں میں بھی مل کر کام کرنے کا عہد کیا ہے جو براہ راست پاکستانی عوام کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات میں نشیب و فراز اور رکاوٹیں آتی رہی ہیں لیکن یہ رشتہ مسلسل بہتر ہو رہا ہے اور حقیقی کامیابیاں حاصل کی جا رہی ہیں جن کے نتائج عملی زندگی میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ پاکستان میں یہ بہت ضروری ہے کہ بات آگے بڑھائی جائے انتہاپسندوں کے ٹھکانے ختم کیے جائیں اور ہمیں کابل اور اسلام آباد کے درمیان خلیج کو کم کرنے کی کوششیں جاری رکھنی چاہییں۔

ہیلری کلنٹن نے حکمتِ عملی کے جائزے کے بارے میں کہا کہ اس میں افغانستان میں فوجی کے ساتھ سیاسی عمل، بشمول مصالحت اور علاقائی اور بین الاقوامی سفارتکاری، پر زور دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی اہداف آج، کل یا اگلے ماہ تک حاصل نہیں ہو پائیں گے۔ لیکن ہمارا عزم پختہ ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم خطے میں القاعدہ کی سرگرمیوں کو معطل، منتشر اور ختم کرنے کے بنیادی مقاصد کے حصول اور طویل مدت میں دونوں ملکوں کے مضبوط دوست بننے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

اپنے خطاب کو ختم کرتے ہوئے ہیلری کلنٹن نے کہا کہ ہم تاریخ نہیں دہرائیں گے۔ ہم افغانستان اور پاکستان کے عوام کا ساتھ جاری رکھیں گے کہ وہ اپنا مستقبل روشن بنائیں ایسا مستقبل جو محفوظ ہو، مستحکم اور آزاد ہو اور امریکہ کے عوام کے لیے خطرہ نہ ہو۔