| پاک افغان سالانہ جائزے پرصدر براک اوباما کا بیان | Array چھاپیے Array |
منجانب , The White House شئیرمتعلقہ خبریںصدربراک اوباما نے مورخہ 16 دسمبر، 2010 کو وائٹ ہاوس کے جمیز ایس بریڈی زرائع ابلاغ کے کمرے کے اندرمیڈیا کے ارکان کو مندرجہ زیل بیان دیا۔ تمام لوگوں کو صبح بخیر! گزشتہ سال دسمبرمیں جب میں نے پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے نئی حکمت عملی کا اعلان کیا تو میں نے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کو ہدایات جاری کیں کہ ان مقامات پر ہماری کوششوں کا باقاعدگی سے تجزیہ کرنے کے ساتھ ساتھ ایک سال کے بعد ہونے والی تمام تر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے۔ اسی لئے ہم نے گزرے 12 مہینوں میں مسلسل ہفتہ واربنیادوں پرمیدان جنگ سے تازہ ترین معلومات حاصل کرنے کے لیے اس سلسلے میں کام کیا ہے۔ میری قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ ماہانہ ملاقاتیں اوراس حوالے سے افغانی، پاکستانی اوردیگر اتحادیوں سے مسلسل مشاورت اس عمل کا حصہ رہا ہے۔ مزید برآں ہماری سالانہ جائزہ پالیسی بھی اسی کا حصہ ہے جو کہ اب پایہ تکمیل کو پہنچ چکی ہے۔ میں وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن اور وزیردفاع رابرٹ گیٹس کی بھرپور قیادت پر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ چونکہ مشترکہ افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیکل مولن افغانستان میں ہیں، تاہم مجھے خوشی ہے کہ ان کی جگہ پر نائب چیئرمین جنرل کارٹ رائٹ ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ ہماری تمام ترجدوجہد ایلچی (سفیر) رچرڈ ہالبروک کے بھرپورعزم کا پرتول ہے جن کی یاد ہمارے لئے باعث تکریم ہے اورجن کا کام ہم حسب معمول جاری رکھیں گے۔ حقیقت میں آنجہانی رچرڈ ہالبروک کو دنیا بھرسے ملنے والا خراج عقیدت نہ صرف ان کی شاندار زندگی کا اظہار کرتا ہے بلکہ اس نازک خطے میں ہماری مشترکہ کوششوں سے قائم ہونے والے عالمی عزائم کو بھی وسعت عطا کرتا ہے۔ میں نے افغانستان کے صدرحامد کرزئی اور پاکستان کے صدر زرداری سے بھی بات کی ہے اور ان سے اب تک کی تحقیقات اور معلومات پر تبادلہ خیال کرنے کے ساتھ ساتھ ان امکانات پر بھی گفتگو کی ہے جن کی مدد سے ہم لوگ آگے بڑھ سکتے ہیں ۔آج میں امریکی عوام کو اپنی جائزہ رپورٹ اور اپنے اس تجزئے سے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کن کن شعبوں میں ہمیں مزید بہتری کی ضرورت ہے ان سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ میں یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ساری بھاگ دوڑ اور کوشش بہت دشوار ثابت ہو گی لیکن میں اس بات سے آگاہ کرنا چاہوں گا کہ اپنے فوجیوں اور شہریوں کی غیرمعمولی خدمات کے طفیل ہم لوگ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے راہ راست پرگامزن ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھنا انتہائی اہم ہے کہ ہم افغانستان میں کیوں ہیں؟ یہ افغانستان کا ہی علاقہ تھا جہاں القاعدہ نے 9/11 کے واقعات کی منصوبہ بندی کی جن کے باعث 3000 ہزار بے گناہ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ پاک افغان سرحد پر واقعہ قبائیلی علاقہ ہے جہاں سے دہشتگردوں نے ہماری سرزمین اور اتحادیوں پرسب سے زیادہ حملہ کئے ہیں افغانستان میں اگراسی طرح شدت پسندی پنپتی رہی تو القاعدہ کو مزید حملوں کی منصوبہ بندی کا موقع مل جائے گا۔ اسی لئے پہلے دن سے ہی میں اپنے مقاصد کے حوالے سے واضح سوچ رکھتا ہوں ہمارامقصد افغانستان کی سلامتی کولاحق ہر خطرے کو ہی شکست دینا نہیں ہے کیونکہ بلاآخر یہ افغان ہی ہیں جنہیں ایک نہ ایک دن اپنا ملک محفوظ بنانا ہے اورنہ ہی ہمارامقصد قومی تعمیر ہے کیونکہ یہ افغان ہی ہوں گے جو اپنی قوم کی تعمیرکریں گے۔ بلکہ ہمارامقصد افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ کو توڑنا، تباہ وبرباد کرنا اور شکست دینا ہے اور اسے مستقبل میں اس قدر طاقت اور اثرورسوخ حاصل کرنے سے روکنا ہے جس سے وہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کیلئے خطرہ بن سکے۔ بنیادی مقصد کے حصول کیلئے ہمیں اس سلسلے میں نمایاں پیش رفت دیکھنے کو مل رہی ہے، آج افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں القاعدہ کی اعلیٰ قیادت انتہائی دباومیں ہے اوریہ دباو اس وقت سے کئی گنا زیادہ ہے جب وہ افغانستان سے نو سال قبل فرارہوئی تھی، القاعدہ کے اعلی قائدین کو ہلاک کر دیا گیا ہے، ان کیلئے نئے لوگوں کو بھرتی کرنا مشکل عمل بنا دیا گیا ہے، ان کیلئے سفر یا نقل وحرکت کرنا بھی دشوارہوچکا ہے، نئے لوگوں کی تربیت کرنا بھی ان کیلئے کٹھن ہوگیا ہے اسی طرح القاعدہ کی قیادت کیلئے مزید حملوں کی منصوبہ بندی یا پیش بندی کرنا انہتائی مشکل کام بن کررہ گیا ہے۔ قصہ مختصر، القاعدہ کی کمر توڑ دی گئی ہے تاہم اسے حتمی شکست دینے میں وقت لگے گا اگرچہ القاعدہ ہمارے ملک اور لوگوں کیلئے اب بھی ایک مہلک خطرے اور سفاک دشمن کی طرح موجود رہے گی اور اس کی جانب سے حملوں کا بھی خدشہ موجود رہے گا لیکن بغیر کوئی غلطی کئے ہم لوگ مسلسل القاعدہ اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کو تباہ وبرباد کرنے، اس کوشکست فاش کرنے اور توڑنے کیلئے چستی سے پیچھا جاری رکھیں گے۔ افغانستان میں ہماری توجہ حکمت عملی کی تین سطحوں پر رہی ہے: طالبان کی نقل وحرکت کا خاتمہ اور افغان فورسزکی تربیت تاکہ وہ سربراہی سنبھال سکیں، شہری حوالے سے موثر حکومت کی تشکیل و ترویج اور بہتری کیلئے کوششیں اورخطے میں خاص طور پر پاکستان کے ساتھ تعاون کو بڑھانا، کیونکہ ہماری حکمت عملی میں ہمیں سرحد کے دونوں جانب کامیابی حاصل کرنا ہے۔ درحقیقت گزشتہ کئی سالوں میں پہلی بار ہم نے افغانستان میں اپنے وہی حکمت عملی اور وسائل جھونک دیئے ہیں جو کہ یہاں ہماری جدوجہد کیلئے انتہائی ناگریز تھے۔ چونکہ ہم نے عراق میں اپنا جنگی مشن ختم کردیا ہے اور وہاں سے 100,000 کے قریب امریکی فوجیوں کو وطن واپس بلا لیا ہے اس لئے اب ہم اس وقت زیادہ بہتر حالت میں ہیں کہ افغانستان میں موجودہ اپنی فوج کو بھرپورحمایت اور سازوسامان فراہم کریں جس کی مشن کی تکمیل کیلئے انہیں انتہائی ضرور ت ہے۔ عراق سے ہماری فوج کے انخلاء کا مطلب یہ بھی ہے کہ میرے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد سے اب تک ہزاروں میں سے کچھ امریکی فوجی ہی رہ گئے ہیں جنہیں عراق میں خطرناک صورتحال میں تعینات کیا گیا تھا۔ افغانستان میں موجود اضافی فوج سے ہمیں اپنے فوجی مقاصد کے حصول میں خاطرخواہ کامیابیاں ملی ہیں۔ افغانستان کیلئے جس اضافی عسکری اور شہری عملے کے حوالے سے میں نے احکامات جاری کئے تھے اب وہ ایک جگہ پرموجود ہیں ان کے ساتھ ہمارے اتحادی ممالک جن میں شامل ممالک کی تعداد اب 49 ہو چکی ہے کے اضافی دستے بھی موجود ہیں ۔افغان شراکت داروں کے ساتھ ہم نے طالبان پرحملوں کو بڑھاتے ہوئے انہیں نشانہ بنانا شروع کردیا ہے، جبکہ ان کے رہنماوں کو ان کے مضبوط ٹھکانوں سے باہر نکال کرانہیں ٹارگٹ بھی کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ اس ماہ کے آغازمیں، میں نے افغانستان میں موجودہ اپنی فوج کا دورہ کیا ہے، وردی میں ملبوس ہمارے مردوخواتین فوجیوں کی زندگیوں کی صورت میں کامیابی آہستہ آہستہ قدم چوم رہی ہے، کئی مقامات پرجو کامیابیاں ہم نے حاصل کی ہیں وہ بدستور کمزور ہیں اور ان کے پلٹ جانے کے خدشات ہیں لیکن اس حوالے سے کسی قسم کا سوالیہ پن سامنے نہیں آیا کہ ہم طالبان سے وہ علاقے خالی کرا رہے ہیں جو ان کے زیرکنٹرول ہیں جبکہ زیادہ سے زیادہ افغانی اپنے اپنے علاقے کا دعویٰ کررہے ہیں ۔ اس امرکو یقینی بنانے کیلئے کہ افغان شہری ذمہ داریاں سنبھال سکتے ہیں ہم تربیتی عمل پر خصوصی توجہ مرکوزکررہے ہیں ، افغان سیکورٹی فورسزمیں اضافے کا ہدف پورا ہونے کو ہے، اتحادی ساتھیوں کی جانب سے اضافی تربیت کاروں کی فراہمی سے مجھے اعتماد ہے کہ ہم اپنے مقاصد کے حصول کا عمل جاری رکھیں گے۔ یہاں میں یہ بھی اضافہ کرتا چلوں کہ اس سال جس رفتار کے ساتھ ہمارے فوجیوں کی تعیناتی کی گی یہ ساری کامیابیاں پھر بھرتیوں کے عمل میں اضافہ، افغان فورسز کی بھرتی اور تربیت، دیگرممالک کی جانب سے بھی اضافی فوج اور تربیت کاروں کی شمولیت، یہ سب نتائج ا س بات کا واضح اشارہ ہیں کہ اگلے سال جولائی تک ہم افغانیوں کو ذمہ داریوں کی منتقلی اور امریکی فوج میں کمی کا عمل شروع کردیں گے۔ اس ہنگامی احساس سے ہمیں اپنے اتحادیوں سمیت ان مقاصد پر پھر سے مضبوطی سے ڈٹے رہنے میں مدد ملی ہے جن کے بارے میں پرتگال کے شہر لزبین میں ہونے والے نیٹو کے اجلاس میں باہمی اتفاق رائے پیدا کیا گیا تھا۔ یہ کہ ہم لوگ افغانستان میں جنگ کے ایک نئے دورکی جانب بڑھ رہے ہیں، افغان فورسز کو سیکورٹی انتظامات سنبھالنے کیلئے مکمل ذمہ داریوں کی منتقلی جس کا آغاز اگلے سال جبکہ اختتام 2014 میں ہوگا، اس کے باوجود نیٹو کی جانب سے افغان فورسزکی تربیت اور مشورے کا عمل جاری ہے۔ اب ہمارے جائزے سے بھی اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ حاصل کی جانے والی ان کامیابیوں کو آنیوالے وقت میں برقرار رکھنے کیلئے افغانستان میں سیاسی اور معاشی ترقی کی ہنگامی بنیادوں ہر ضرورت ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں میں افغانستان میں ہمارے شہری معاملات میں موجودگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، فوجی دستوں کے ساتھ پہلے سے کئی زیادہ تعداد میں سفارتکاراور ترقی کے ماہرین اپنی جانیں خطرےمیں ڈال کر افغانیوں کے ساتھ مل جل کام کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کیلئے بنیادی خدمات کی فراہمی ،شفافیت اور احتساب کے حوالے سے مسلسل ارتکاز کی ضرورت ہے ہم افغانستان میں ایسے کسی بھی سیاسی عمل کی بھرپورحمایت کریں گے جس میں ان طالبان سے مصالحتی کوششیں شامل ہیں جو القاعدہ سے اپنا ناطہ توڑ چکے ہیں، تشدد کی مذمت اور افغانستان میں تعمیروترقی کی سرگرمیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ آئندہ سال ہم افغانستان کے ساتھ نئی حکمت عملی کی شراکت داری سے متعارف کرائیں گے، ہم اس بات کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ امریکا افغانستان کے لوگوں کی طویل المدت سلامتی اور ترقی کیلئے پرعزم ہے۔ حتمی طورپر ہم پاکستان کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو مرکز نگاہ رکھیں گے، پاکستانی حکومت کی جانب سے اپنے سرحدی علاقوں پر موجود دہشتگردوں کے نیٹ ورکس کےحوالے سے آگاہی میں اضافہ ہو رہا ہے جو تمام ممالک بالخصوص پاکستان کیلئے ایک بڑاخطرہ ہیں۔ قبائیلی علاقوں میں پاکستان کی جانب سے بڑے پیمانے پرکارروائیاں خوش آئند ہیں ہم ان دہشتگرد نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ دینے میں پاکستان کی بھرپور مدد جاری رکھیں گے، تاہم اس حوالےسے ہونے والی پیش رفت تیز تر نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ہم پاکستانی قیادت پر ذور ڈالیں گے کہ پاکستانی سرحدی علاقوں میں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں سے نمٹنے کیلئے ضروری اقدامات کریں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں پاکستان میں معاشی اور سیاسی نشوونما کی حمایت کرنے کی بھی ضرورت ہے جو کہ پاکستان کے مستقبل کیلئے انتہائی اہم حیثیت رکھتی ہے، جہاں تک پاکستان کے ساتھ امریکا کے سٹریٹجک مذاکرات کا تعلق ہے اس سلسلہ میں ہم دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون کو مزید بڑھانے کیلئے کام کریں گے۔ ہم پاکستان میں شہری اداروں اور منصوبوں کی تعمیروترقی کیلئے سرمایہ کاری میں اضافہ کریں گے جن سے پاکستانیوں کے معیارزندگی میں بہتری آئے گی۔ ہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان قریبی تعاون کی فضا کو فروغ دینے اور حوصلہ افزائی کی کوششوں میں مزید اضافہ کریں گے۔ اگلے سال کئی ممالک کے دورے میرے پیش نظرہیں جن میں پاکستان کا دورہ بھی شامل ہے کیونکہ پاکستان کے ساتھ امریکا ایک ایسی پارٹنرشپ کا خواہشمند ہےجس سے پاکستان کے لوگوں کو سیکورٹی کی بہتر صورتحال، ترقی اور انصاف کی فراہمی میں مدد مہیا کی جا سکے۔ ایک بار پھرمیں یہ کہنا چاہوں گا کہ جن چیلنجزکا میں نے ذکر کیا ہےان میں سے کوئی بھی آسان نہیں، اگے اور بھی سخت لمحات آنیوالے ہیں، لیکن بطور قوم ہم اپنے ساتھی امریکیوں کی خدمات سے ہی توانائیاں اور استحکام حاصل کرتے ہیں۔ افغانستان کےحالیہ دورے میں، میں نے ایک طبی یونٹ کا دورہ کیا اورکچھ زخمی امریکی جنگجوؤں پر گلابی دل آویزاں کئے، دورے کے دوران میں ایک ایسی پلاٹون سے بھی ملا جو اپنے چھ ساتھیوں کو کھو چکی تھی، اس قدر جان جوکھوں والی لڑائی، تمام قربانیوں کے باوجود، یہ لوگ ہماری سیکورٹی اور ان قدروں، روایات کی خاطر میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں جن سے ہمیں بہت پیار ہے اورجن پر ہم عمل پیرا ہیں ۔ ہم لوگ ہرحال میں مشن جاری رکھیں گے ہم اپنے بہادرفوجیوں اور شہریوں کو ہروہ حکمت عملی اور وسائل فراہم کریں گے جو کے ان کی کامیابی کیلئے ناگریز ہے۔ ہم القاعدہ کو تباہ وبرباد کرنے، شکست فاش دینے کے اپنے بنیادی مقصد سے کسی طور پر نہیں ہٹیں گے، وہ لوگ جو امن چاہتے ہیں اور ترقی کے خواہشمند ہیں ہم ان کے ساتھ پائیدارشراکت تشکیل دیں گے۔ امریکیوں کی زندگی اور سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے ہم اپنی طاقت سے ہرممکن اقدام کریں گے۔ اس کےساتھ ساتھ میں اور نائب امریکی صدر جو بائیڈن آپ سے اجازت چاہیں گے اب میں آپ لوگوں سے مزید بات چیت کی ذمہ داری وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن، وزیردفاع رابرٹ گیٹس اور نائب چئیرمین کارٹ رائٹ کو سونپتا ہوں آپ کے سوالوں کے تفصیلی جواب بھی وہی دیں گے اور اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی آ پ کو ان سے ملے گی ۔ آپ تمام احباب کا بہت بہت شکریہ |