| لنڈا نارگرویو کی وفات کے حوالے سے امریکہ کے مرکزی کمان کا بیان | Array چھاپیے Array |
|
منجانب , U.S. Central Command میکڈل فضائیہ فورس بیس، فلوریڈا - 2 دسمبر2010 - 8 اکتوبر 2010 کو لنڈا نارگرویو کی موت کے حالات کی امریکا، برطانیہ کی مشترکہ تحقیقات پایہ تکمیل کو پہنچیں۔ مس نارگرویو، ایک برطانوی شہری، امدادی کارکن تھیں جنہیں 26 ستمبرکو افغان صوبے کنہرسے طالبان نے اغوا کیا تھا۔ ایک مکمل، جامع اور مشترکہ تحقیق عمل میں لائی گئی جس میں امریکا اور برطانیہ دونوں کے تحقیقاتی افسران شامل تھے۔ اس تحقیق کے ابتدائی نتائج سے امریکی اور برطانوی حکومتوں کے ارکان کو آگاہ کیا گیا ہے۔ یہ یقین کر لیا گیا ہے کہ مس نارگرویو امریکی قیادت میں ہونے والے ایک آپریشن کے دوران گرنیڈ کے زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے موت کا شکار ہوئیں، برطانیہ کے قانونی مراحل کے احترام کے پیش نظر امریکہ کا مرکزی کمان اس وقت تک اضافی معلومات کا اجرا نہیں کرے گا جب تک عزت ماب کی پوسٹ مارٹم تفتیش پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ جاتی، جس کا 2011 کے ابتدا میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔ اگرچہ مس ناروگرویو کی موت ایک المناک سانحہ ہے، تاہم وہ شدت پسند جنہوں نے انہیں اغواء کیا تھا ان کی موت کے بالخصوص ذمہ دار ہیں۔ امریکی مرکزی کمان اس تکلیف دہ حادثے کے نتیجے میں ان کی زندگی کے کھو جانے پر انتہائی دکھ کا اظہارکرتی ہے، اور ہم ناروگرویو کے اہل خانہ سے المناک نقصان پر گہرائی سے افسوس کرتے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل جمیزاین میٹس کا کہنا ہے کہ مس نارگرویو ایک انتہائی بہادرخاتون تھیں جن کی بہادری اور خداترسی کو افغان بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ افغانستان میں افغانیوں کی مدد کرنےکیلئے موجود تھیں۔ جنرل جیمزکا کہنا تھا کہ ان کی انسانی خدمت کے کاموں سے لگن اوران کے اہل خانہ کی بھرپورحمایت ہم سب کیلئے روحانی مثال کی سی حیثیت رکھتی ہیں۔ |