پاکستان نے مشترکہ ٹاسک فورس 151 کی کمان سبنھال لی Array چھاپیے Array
منجانب , Combined Maritime Forces
 101129-N-0000X-001
پاکستان بحریہ کے کیڈر عبدالعلیم نے ایچ ایم ایس کارن وال HMS Cornwall پر ترک بحریہ کے نائب ایڈمرل صنام ارتگل سے مشترکہ ٹاسک فورس CTF 151 کی کمانڈ سنبھال لی۔ ارتگل نے مشترکہ ٹاسک فورس 151 کی کمانڈ اگست میں حاصل کی تھی۔ مشترکہ ٹاسک فورس سی ٹی ایف151 کا قیام جنوری 2009 میں عمل میں لایا گیا اور اس کا مقصد خلیج عدن اور صومالی بیسن میں قذاقوں کے خلاف کارروائیاں کرنا ہے۔ تصویر مشترکہ بحریہ فورسز کے شکریہ کے ساتھ/جاری کردہ

مانامہ، بحرین 29 نومبر 2010 - پاکستانی بحریہ سے تعلق رکھنے والے کیڈرعبدالعلیم نے ترک بحریہ کے نائب ایڈمرل صنام ارتگل سے مشترکہ ٹاسک فورس CTF 151 کی کمان لے لی۔ اس سلسلے میں تقریب 29 نومبر کو متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ میں ہوئی۔

مشترکہ ٹاسک فورس CTF 151 کثیر ملکی ٹاسک فورس ہے جس کا قیام جنوری 2009 میں عمل میں لایا گیا تھا اور اس کا کام خلیج عدن اور صومالی بیسن میں قذاقوں کے خلاف کارروائیاں کرنا ہے۔

سی ایم ایف کے ڈپٹی کمانڈر کیڈر ٹِم فریزر Tim Fraser کہتے ہیں کہ مشترکہ بحریہ فورسز میں بہت سے سالوں سے پاکستان ایک اہم شراکت دار رہا ہے۔ خطے کی میری ٹائم سکیورٹی میں پاکستانیوں کا کردار نمایاں رہا ہے کیونکہ انہوں نے چار مرتبہ مشترکہ ٹاسک فورس 150 کی کمان سنبھالی ہے اور اب اپنے یہ ہنر کمبائنڈ ٹاسک فورس 151 میں خلیج عدن اور صومالی بیسن میں قذاقی کے خلاف کاروائیاں کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔

مشترکہ ٹاسک فورس CTF 151 کا کمانڈر ہونے کے ناطے ارتگل نے آسٹریلیا، جمہوریہ کوریا، پاکستان، سنگاپور، تھائی لینڈ، ترکی، برطانیہ اور امریکہ سے بحری جہازوں کی قیادت کی۔ کمانڈ سٹاف میں بحرین، کینیڈا، ترکی، برطانیہ اور امریکہ کے اہلکار شامل رہے ہیں۔

ترکی کی مدتِ کمانڈ میں قذاقوں سےمیگلن سٹار ایم/وی M/V Magellan Star نامی جہاز واپس لیا گیا؛ خلیج عدن میں پناہ گزینوں کی مدد کی گئی اور پہلی مرتبہ مشترکہ ٹاسک فورس سی ٹی ایف 151 میں رائل تھائی بحریہ کے جہازوں کو شامل کیا گیا۔

ارتگل نے اپنی کمانڈ کے تین ماہ کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تجارت اور عالمی  معیشت کے لیے اس خطے کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ قذاقی کا مسئلہ یہاں کے ہر فرد کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لہذا میری کمانڈ میں مدت کے دوران یہ واضح رہا ہے کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں اس میں بین الاقوامی تعاون ہونا ضروری ہے۔

ارتگل نے زور دیا کہ قذاقی کے خلاف کارروائیوں کے لیے مشترکہ بحری فوجوں کو ہر دم ہوشیار رہنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے سمندر میں قذاقی کو چنا ہے انہوں نے دکھا دیا ہے کہ ان کے پاس کتنے وسائل ہیں اور جیسے جیسے ہم ان کی چالوں کو ناکارہ کرتے ہیں ویسے ہی وہ اپنا رویہ تبدیل کرتے ہیں۔ لہذا بحری فوجوں کو ہوشیار رہنا اور حالات کے مطابق ڈھلنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ تاہم، قذاقوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ہم یہاں اس وقت تک رہیں گے جب تک ضروری ہو گا۔