| نظامیہ کا شوری کا افغانیوں کو تبدیلی کے لئے تیار کرنا | Array چھاپیے Array |
|
منجانب Sr. Airman William O'Brien, Combined Joint Interagency Task Force 435 کابل، افغانستان 8 نومبر، 2010 – 8 نومبر کو مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس 435 صدر دفتر پر نظامیہ کی شوری میں افغان قومی فوج کی عسکری پولیس بریگیڈ کے انصرامی افسران اکھٹے ہوئے تاکہ وزارت دفاع کی مطلوبہ پالیسیوں اور اقدامات پر بحث کر سکیں۔ شوری نے افغان قومی فوج (اے این اے) اور امریکہ کے نطامی ماہرین کو اکٹھا کیا تاکہ وہ دونوں گروہوں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر کریں اور اے این اے کی انصرامی ضروریات کے لیے بہتر سوجھ بوجھ پیدا کرسکیں۔ اے این اے کرنل نابی، وزارت دفاع انصرامی نظامی امدادی کاروائیوں کی کمان کے کمانڈر نے کہا کہ کہ انصرامی عمل فوج کی روح رواں ہیں اور تمام فوجیوں کی انصرامی ضروریات ہوتی ہیں اور نظامی عمل فوج کو لیس ہونے کے لئے تمام ضروری آلات اور اشیاء فراہم کرتے ہیں۔ بحث شدہ عنوانات میں شامل احکامات کا طریقہ عمل، آلات و سہولت کو برقرار رکھنے کی املا کی جواب دہی اور احتسابات شامل ہیں۔ امریکی فوج کے میجر ایرک ایم گیڈس، افغانستان کی نظربندی اور بھالی کی مشاورتی ٹیم کے نظامیہ افسر نے کہا کہ ہم نے وزارت دفاع کے عہدہ داروں اور افغان قومی فوج کی عسکری پولیس بریگیڈ کے نظامی افسران کو اکٹھا کیا تاکہ ان پالیسیوں اور اقدامات جن کا اصلاق ہو چکا ہے ان پر آمنے سامنے بحث ہو سکے۔ رسمی پروگرام کا اتباع کرتے ہوئے، نمائندوں نے اپنی ضروریات پر بحث کی اور افغان اور امریکی قیادت سے ان طریقہ کار پر مشورے حاصل کئے جن سے ان ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ افغان کرنل حاضر خان مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس 435 کے افغان انصرامی افسر نے کہا کہ اس شوری کا مقصد ہے کہ ہم اپنے مسائل کو بہتر کریں اور وہ کریں جس کی ہمیں ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے مسائل ایک دوسرے کے ساتھ بانٹ سکیں اور اگر کوئی مسئلہ ہو تو اس کے حل کے لئے مشورے دے سکیں۔ نابی نے مزید کہا کہ اس شوری میں اٹھائے گئے 80 فی صد مسائل کو ہم نے اپنی پالیسیوں کی راہنمائی سے اور جس کسی کے جو بھی مسائل ہیں ان کی وضاحت کر کے حل کر دیا ہے۔ نابی نے کہا کہ وہ شوری اور مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس 435 کی طرف سے شرکاء کے لئے کئے گئے رہائشی انتظامات سے خوش ہوئے۔ نابی نے کہا کہ یہ بہت اچھا ہوا ہے اور اسلامی ثقافت میں شوری بہت ضروری ہے۔ ہمارے اور ہمارے مذہبی معمولات کے لئے جو انتظامات کئے گئے ہیں وہ بہت خوب ہیں اور میں ان سے بہت خوش ہوں۔ مجموعی طور پر تمام شرکاء اس بات پر متفق ہوئے کہ افغان کنٹرول کی تحویل کی کاروائیوں کی شرطیہ بنیاد پر کی جانے والی تبدیلی کے انصرامی شعبے میں کام کرنے والے افغانیوں کو تیار کرنے کے لئے شوری ایک بہترین قدم تھا۔ مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس 435، حکومت اسلامی جمہوریہ افغانستان اور امریکی انٹر ایجنسی اور بین الاقوامی پارٹنرز کے ساتھ شراکت داری میں، تبدیلی، بھالی، عدالتی شعبے اور حیاتی شماریات میں کاروائیاں کرتی ہیں۔ بلاآخر، اگر حالات اجازت دیں تو مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس 435 قانون کی بالادستی کو فروغ دیتے ہوئے افغان کنٹرول کو تحویلی کاروائیاں منتقل کرے گی۔ |