افغان قومی فوج کی پولیس کے سپاہیوں کا چوتھا کوہورٹ دستہ فارغ التحصیل Array چھاپیے Array
منجانب Sgt. Jason Boyd, Combined Joint Interagency Task Force 435

صوبہ پروان، افغانستان 4 نومبر، 2010 ۔۔ 4 نومبر پروان میں کاروائی قید خانے تربیتی مرکز سے افغان قومی فوج کی فوجی پولیس کے سپاہیوں کا چوتھا کوہورٹ دستہ فارغ التحصیل ہوا۔  

200 سپاہیوں کے اس گرو نے ایک جامع نصاب کے حصّے کے طور پر دو ہفتوں کی لسانی تربیت اور آٹھ ہفتوں کی قید خانے میں کی جانے والی کاروائیوں کی تربیت مکمل کی ہے۔  یہ تربیت پروان قید خانے (ڈی ایف آئی پی) میں گارڈ کے فرائض سنبھالنے سے پہلے کرنی ضروری ہوتی  ہے۔

دس ہفتوں کی یہ تعلیمی ہدایات، دو مراحل کے تربیتی نصاب کا پہلا مرحلہ ہیں جس کو اس قید خانے میں کام  شروع کرنے سے قبل مکمل بنانا اے این اے کے سپاہیوں کے لۓ ضروری ہے۔ تربیت کا دوسرا مرحلہ کام پر چھ ہفتے کی تربیت سے شروع ہوتا ہے جہاں افغان قومی فوج کے سپاہی اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ کام کرتے ہیں اور قید خانے کے کاموں کے تمام پہلوؤں بشمول قیدیوں کو طبی اپائنٹ منٹ پر لے جانا تفریح اور ذاتی حفظانِ صحت کے لۓ وقت اور سکیورٹی اور کارِ منصبی کے بارے میں سیکھتے ہیں۔ یہ تربیت تعلیمی تربیت کے ساتھ مل کر سپاہیوں کو ڈی ایف آئی پی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لۓ تیار کرتی ہے اور قیدیوں کی ہمدردانہ حراست اور دیکھ بھال پر زور دیتی ہے۔

ایک افغان سپاہی سارجنٹ مِیرا جوَن نے کہا کہ تربیت آسان نہیں تھی مگر اِس نے ہمیں  اپنا کام کرنے اور اُس اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کی اہلیت فراہم کی جو کہ ہمارے ہم رُتبہ ساتھیوں نے قائم کیا ہے۔

مجموعی مشترکہ بین الایجنسی ٹاسک فورس 435 ( سی جے آئی اے ٹی ایف – 435 ) کے اے این اے کے ڈپٹی کمانڈر میجر جنرل مرجان شجاع نے تقریب کے دوران فارغ التحصیل کلاس کو مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی قوم اور اس کے عوام کو آپ پر فخر ہے اور اُن کو ضرر سے محفوظ رکھنے کے لۓ آپ کا شکریہ۔

نائب وزیرِ دفاع عنایت اللہ نظاری نے بھی فارغ التحصیل ہونے والی کلاس سے خطاب کیا۔

نظاری نے کہا کہ آج یہاں آپ سے خطاب کرنا میرے لۓ باعثِ اعزاز ہے۔ یہ جانتے ہوۓ کہ آپ پوری طرح چوکس ہیں اور اپنا کام کر رہے ہیں افغانستان کے عوام چین کی نیند سو سکتے ہیں۔

اے این اے کے ایک سپاہی افغان فوج کے  پرائیویٹ نصرالدین نے بتایا کہ قید خانے کی تربیت کے تجربے اور کام ملنے کے اس موقع  نےاُن پر کس طرح اثر ڈالا۔   

نصرالدین نے کہا کہ یہاں آنے سے پہلے میرے پاس کچھ نہیں تھا اور اب میرے پاس اپنی اور اپنے بڑے کنبے کی دیکھ بھال کے لۓ پیسے ہیں۔ میرے پانچ بھائی ہیں مگر میں نے اُن میں سے کسی کو بھی سالوں سے نہیں دیکھا ہے۔  اس لۓ اب یہ ہی میرا کنبہ ہے اور مجھے امید ہے کہ میں اُن کے ساتھ مل کر آنے والے بہت سے سالوں میں اپنے ملک کی خدمت انجام دیتا رہوں گا۔

اسکارٹ ڈیوٹیز کے نان کمنشنڈ آفیسر انچارج اور دوسرے کوہورٹ کے سپاہی، اے این اے کے سارجنٹ میرا جَون نے کہا کہ جو تربیت ہم نے اپنے امریکی ہم مرتبہ ساتھیوں سے حاصل کی ہے اُس نے ہمارے لۓ یہاں پر کام کرنا بہت آسان کر دیا ہے۔

گارڈ کی تعداد میں اضافہ کرنے کے لۓ آج کل اے این اے  ملٹری پولیس کے 500 سے زیادہ سپاہیوں کی تربیت ہو رہی ہے اور 260 سے زیادہ پوری طرح تربیت یافتہ ہیں اور اس ادارے میں اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ گارڈ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ سی جے اے ٹی ایف – 435 حکومتِ افغانستان کو ملٹری قید خانے کا  نظم و نسق  ذمہ داری کے ساتھ منتقل کرنے کی تیاریوں میں افغان فورسز کے ساتھ  بڑی سرگرمی سے شریکِ عمل ہے۔

سی جے اے ٹی ایف – 435، حکومت اسلامی جمہوریہ افغانستان اور امریکی بین الایجنسی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر قید خانوں، اصلاحی مراکز، عدلیہ کے شعبہ اور بائیو میٹرکس میں کاروائیاں کرتی  ہے۔ سی جے اے ٹی ایف قانون کی حکمرانی کی طریقوں میں بہتری لاتے ہوۓ قید خانوں کا نظم و نسق افغان کنٹرول میں منتقل کرنے کے لۓ کام کر رہی ہے۔

سی جے آئی اے ٹی ایف- 435  کمانڈ کی ماتحت، 46یں فوجی پولیس کمانڈ، امن قائم رکھنے کی ٹاسک فورس  افغانستان میں قید خانوں کی تمام کاروائیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ ٹاسک فورس پروان کے قید خانے میں قیدیوں کی محفوظ اور ہمدردانہ حراست، نگرانی اور دیکھ بھال کو یقینی بناتی ہے۔ اُن کی کاوشیں اے این اے کے سپاہیوں کو اس قابل بنا دیں گی کہ وہ اپنے امریکی ہم منصبوں سے ذمہ داریاں سنبھال لیں اور اس قید خانے کو چلا سکیں ۔

ٹاسک فورس سپارٹن کی 96ویں فوجی پولیس بٹالین  قید خانے کے نظم  و نسق چلانے کے لۓ افغان فوجیوں کی تربیت کرتی ہے اور  زبان کی رکاوٹوں  کو دور کرنے کے ماہر لسانیات فراہم کرتی ہے۔

ڈی ایف آئی پی، بگرام ہوائی اڈّے سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع جدید ترین سہولیات سے لیس ایک  قید خانہ  ہے جس کی تکمیل ستمبر 2009 میں ہوئی تھی اور قیدی دسمبر 2009 کے اواخر میں لاۓ گۓ تھے۔ ڈی ایف آئی پی میں طبی سہولیات، عمارت کے اندر فیملی سے ملاقات کا مرکز، پیشہ ورانہ تربیت کی سہولتیں اور تعلیمی کمرے موجود ہیں۔ ڈی ایف آئی پی کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ وہ قیدیوں کو معاشرے میں دوبارہ شامل کرنے کی کوششوں میں مدد کرتا ہے اور جے آئی اے ٹی ایف- 435  کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ قیدیوں کے متعلق کاروائیوں کو افغانستان میں پرتشدد بغاوت کو شکست دینے کی حکمتِ عملی کے ساتھ بہتر طور پر ہم آہنگ رکھے۔