پاکستانی اور امریکی غوطہ خوروں کی کامیابی کے ساتھ بحریہ کے آلے کی بازیابی Array چھاپیے Array
منجانب , U.S. Embassy, Islamabad, Pakistan
 5150997894_21db88606c_b_1
پاکستانی اور امریکی بحریہ کے غوطہ خور پاکستان کے ساحل سے تقریبا 40 کلومیٹر دور بحیرہ عرب کی تہہ سے آلے کی بازیابی کیلیے ایک ساتھ کام کررہے ہیں۔

اسلام آباد، پاکستان (6 نومبر، 2010) - پاکستان بحریہ اور امریکی بحریہ کے غوطہ خوروں کی ایک مشترکہ ٹیم  نے حال میں بحیرہ عرب میں پاکستان کے ساحل سے تقریبا 25 میل (40 کلومیٹر) دور بحریہ کے آلے کے ایک ٹکڑے کو کامیابی کے ساتھ تلاش کرلیا۔  

پاکستان بحریہ کی جانب سے شروع کی گئی تلاش کے دوران سمندر کی تہہ میں تقریباً ۱۹۰ – ۲۰۰ فٹ (۵۸ – ۶۰ میٹر)  گہرائی میں پڑے ہوئے آلے کو تلاش کر لیا گیا۔  اتنی گہرائی ایک فنًی مسئلہ تھی، اسلیے پاکستان بحریہ نے ایک مشترکہ تلاش کی کوشش کیلیے امریکی بحریہ سے شراکت داری کا فیصلہ کیا۔

اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے پاکستان کیلیے دفاعی نمائندے کے دفتر نے مشترکہ مہم کو مربوط کیا۔

پاکستان کیلیے دفاعی نمائندے کے دفتر کے کمانڈر امریکی بحریہ کے نائب  ایڈمرل مائیکل لی فیور نے کہا کہ ہماری اہم مہمات میں سے ایک پاکستان کی ملٹری افواج کو  مدد کی فراہمی ہے۔ اس لیے جب ہمیں مدد کیلیے درخواست موصول ہوئی ہم نے مدد کیلیے جہاں ہم کرسکتے تھے تیزی کے ساتھ حرکت کی ۔

پاکستان بحریہ کے مددگار اور کان کے اسکواڈرن کے کمانڈر پاکستان بحریہ کے کموڈور  مختار خان نے کہا کہ ٹیم کی بنیاد پر اس کوشش کا نتیجہ ایک بیش قیمت پاکستانی بحریہ کے اثاثے کی بازیابی کی شکل میں ظاہر ہوا۔ سرعت کے ساتھ مہم کی منصوبہ بندی اور ہماری دو غوطہ خور ٹیموں میں بہترین مربوطی اس بات کی بہترین مثال تھی کہ کس طرح شراکت دار افواج کو کام کرنا چاہیے۔

بازیابی کی ایک کامیاب مہم سے آگے بڑھنے کے بعد پاکستانی اور امریکی غوطہ خور ٹیموں نے اپنے غوطہ خوری کی مہارتوں میں مزید بہتری کیلیے اور متعلقہ ممالک کے درمیان غوطہ خوری کی تکنیک میں مربوطی کیلیے مشترکہ تربیت کیلیے چند اضافی دن ساتھ گزارے۔