| کاروبار میں اضافہ، نئی ملازمتیں اور نۓ بنیادی ترقی کی منصوبہ بندیاں افغانستان میں ترقی پر روشنی ڈالتے ہیں | Array چھاپیے Array |
منجانب , ISAF Public Affairs Office شئیرمتعلقہ خبریںکابل، افغانستان 4 نومبر، 2010– حفاظتی اقدامات میں ترقی کے باعث، افغان متحدہ شراکت داری اور افغان حکومت کے اٹھاۓ گۓ اقدامات، انتظامیہ میں اہم کامیابیوں اور تمام تر افغانستان میں ترقی کے نئے علمی اور اقتصادی موقعوں کے دروازے کھول دیۓ ہیں۔ بریگیڈئیر جنرل جوزف بولٹز جو کہ ایساف کے نمائیندے ہیں نے کہا کہ افغانستان کے لوگوں کے لیے تحفظ کی فراہمی نہایت اہم ہے، لیکن اصل حل انتظامیہ کے استحکام اور ترقی کی کامیابی میں پایا جاتا ہے۔ ہر صوبے میں افغان متحدہ شراکت دار اور بین الاقوامی امدادی تنظیمیں بہت جوش و خروش سے ترقیاتی پروگراموں کو بڑھانے میں لگی ہوئی ہیں جو کہ افغانستان کی طویل المعیاد سیکیوریٹی کا باعث بنے گیں۔ مندرجہ ذیل اہم نکات ہر علاقے سے ترقی کی کچھ مثالیں پیش کرتے ہیں جو کہ افغان حکومت اور اس کے بین الاقوامی ساتھیوں کے تمام افغانیوں کے لیۓ تحفظ، استحکام اور مواقعوں سے بھر پور ماحول قائم کرنے کے طویل المعیاد عہد کو واضع کرتے ہیں۔ یہ افغان اورمتحدہ کی اکٹھی سیکیوریٹی کی کاروائیاں جو لوگوں کو باغیانہ کاروائیوں سے بچانے کے لیے کی گئی ہیں کی جاری کامیابیوں کی بھی مثال پیش کرتے ہیں۔ جنوب مغرب میں: حال ہی میں ہلمند صوبے میں واقع لشکر گاہ کی کاٹن فیکٹری کو دوبارہ کھولا گیا ہے جس کی وجہ سے کام کرنے والے افغانیوں کے لیۓ مذید ملازمتوں کے مواقعے پیدا ہو رہے ہیں اور مقامی اقتصادیات میں نئ روح پھونکی جا رہی ہے۔ مرجاہ کے دیہاتی علاقوں، ناد علی، نوا، اور گرنشک کی تحصیلوں کو اب اس جگہ جو کہ اس سال 4000 میٹرک ٹن روئی کو پراسس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تک رسائی حاصل ہے۔ اس فیکٹری کے دوبارہ کھلنے سے 175 ملازمتوں کی بحالی ہوئی ہے اور امید ہے کہ آنے والے مہینوں میں 225 مذید ملازمیتیں پیدا ہوں گی۔ ہلمند میں صوبائی گورنر گلاب مینگل نے چوتھی افغان کاروباری کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس کانفرنس کے دوران 200 سے ذاید افغان کاروباری مردوں اور عورتوں نے افغان حکومت اور ایساف کی تعمیر نو اور ترقی کی منصوبہ بندیوں کے لیۓ مقابلہ کیا۔ لشکر گاہ کے ٹیچر تربیتی کالج میں جو کہ پورے افغانستان میں 42 میں سے ایک ہے اب اساتذہ تربیتی سرٹیفیکٹ پروگرام پیش کرتا ہے جس کے ذریعے یہ افغانیوں کی پیشہ ورانہ اساتذہ کے طور پر تصدیق کرتا ہے۔ یہ وزارت تعلیم کی قوم کے تعلیمی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کی ایک نئی کوشش ہے اور آخر کار تمام اساتزہ تربیتی کالجوں میں اس کا نفاذ ہو گا۔ جنوب میں قندھار میں، صوبے کے گورنر طوریالی ویسی نے شہر میں قانون کے نفاذ کی عمارتوں اور مذید عملے کی بھرتی کے لیے نئے پروگرام کے لیے ترتیب دینے کی منظوری دی ہے۔ اس پروگرام میں پولیس کے سب 10سٹیشن اور پولیس کی تین افغان قومی کور کی عمارتیں تفتیش کاروں کے لیۓ استعمال ہوں گیں۔ صوبہ اروزگان تعلیم کے شعبے میں بشمول 250 نۓ سکولوں کے کھلنے اور 1001 سے ذاید اساتذہ اور 425 زیر تربیت اساتذا کی شاندار بڑھت دیکھی جا رہی ہے ۔ 2006 میں اس صوبے میں صرف 36 سکول کام کر رہے تھے۔ شمال میں صوبہ سمنگم کی تحصیل ایبک میں رہائیشیوں اور افغانستان کی وزارت براۓ دیہی تعمیر نو اور ترقی نے مل کر دو درجن سے ذاید کے ترقیاتی پراجیکٹس حکومت کے قومی اتحاد پروگرام کے زیر نگرانی مکمل کیۓ۔ ان منصوبوں میں 125 میل لمبی کچی سڑکوں کی سطح پر پتھر ڈالنے، 14 چھوٹے پلوں کی تعمیر، نکاسی کی 9001 میٹر لمبی نکاسی کی نالیوں کو اینٹوں کے ذریعے پکا کرنا، دو پانی کے ٹینکوں کی تعمیر، چار کنوں کے لیۓ کھدائی اور عورتوں کے لیے کڑھائی کی تربیت کے کورس شامل ہیں۔ 3000 سے زاید خاندان ان مختلف منصوبوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔ مزارے شریف اور قندوز شھر میں، نفیس ریشم کے قالین اور کپڑوں کے لیۓ ریشمی کیڑوں کے پالنے کا پراجیکٹ نہایت کامیابی سے چل رہا ہے۔ مزارے شریف میں صرف خواتین کے بازار میں 20 دوکانوں کی حال ہی میں مرمت کی گئی ہے۔ دونوں منصوبے عورتوں کے لیۓ مستحکم ملازمتوں کے مواقعے مہیا کر رہے ہیں۔ مزارے شریف میں افغان حکومت، افغان متحدہ سیکیوریٹی فورسز، ایساف اورعلاقے کے رہائیشیوں نے علی آباد سکول ڈیویلوپمنٹ پراجیکٹ شروع کر رکھا ہے۔ اس پراجیکٹ میں دو نئی عمارتوں کی تعمیر جس میں سے ہرعمارت 30 کمروں پر مشتمل ہو گی، 3000 طلباء کے لیۓ مذید جگہ فراہم کرے گی۔ یہ سکول تعلیم یافتہ کارکنوں کی ایسی کھیپ مہیا کرے گا جو علاقے کی اقتصادی ترقی میں حصہ لیں گے۔ مشرق میں 22 اکتوبر کو صوبہ وردک کی بہسود کی تحصیل میں جہاں اب 80000 لوگوں کی خدمت کے لیۓ حاضر ہیں اور جہاں تحصیل کی 90 فیصد آبادی کے لیۓ چار صحت کے مراکز عوام کے لیۓ کھولے گۓ ہیں ۔ صوبہ کنر کی تحصیل شیگال میں 116 افغان مردوں نے کنر تعمیراتی مرکز (کے سی سی) سے تعلیم حاصل کی۔ کے سی سی مستری، پینٹ، پلمبنگ، بڑھئی اور بجلی کے کاموں کی تربیت کنر، نورستان، لغمان اور ننگرہار کے نوجوان مردوں کو فراہم کرتے ہیں۔ ماضی میں تعمیراتی کاموں کی بہت بنیادی ملازمیتیں بھی غیر ملکی مزدوروں کے ذریعے کی جاتیں تھیں۔ ایک حالیہ سروے نے یہ ظاہر کیا ہے کہ کے سی سی کے 80 فیصد تعلیم یافتہ اب افغانستان کے مشرقی علاقے میں ملازمتیں حاصل کر لیتے ہیں۔ مغرب میں ہرات کی یورنیورسٹی اس وقت زعفران کی بہتر کاشت اور اس کو پوست کے بہتر متبادل کے طور پر اگانے کے طریقوں پرتحقیق کر رہی ہے۔ اٹالین صوبائی تعمیر نو کی ٹیم نے 400 کلوگرام کی تازہ زعفران کی جڑوں کا عطیہ یورنیورسٹی کی تحقیق کے لیۓ فراہم کیا ہے۔ دارالخلافہ کے علاقے میں کابل میں بادام باغ فارم پر ہزاروں لوگوں نے دو دنوں پر مشتمل بین الاقوامی زرعی میلے میں حصہ لیا جس کا انعقاد 6 اکتوبر کو ہوا۔ اس میلے میں 136 افغان اور 40 بین الاقوامی دوکانداروں نے شرکت کی جو اپنی زرعی خدمات اور مہنگی بکنے والی فصلوں اور اجناس مثلا" انگور، انار، خشک فروٹ، مغزوں اور خالص پشمینہ اون کی نمائیش کر رہے تھے۔ ترقی کی نشونما کی مذید مثالوں کی تصویروں اوران کے بارے میں مذید معلومات یہاں سے حاصل کریں: |