خطے کی کمان کی دارلحکومت میں اختیارات کی منتقلی کی تقریب کے دوران تبصرے Array چھاپیے Array
منجانب , IJC Public Affairs Office

کابل، افغانستان 26 اکتوبر، 2010 – 25 اکتوبر کو خطے کی  کمان کی دارلحکومت میں اختیارات کی منتقلی کی تقریب میں لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ روڈریگیز کی طرف سے کیے گئے مندرجہ ذیل تیار شدہ تبصرے پائیے۔

شام بخیر، میں آج ابتدا ان بہادر لوگوں کے نام سے کرنا چاہونگا جو افغان قومی فوج، قومی پولیس اور تحفظ کے قومی ڈائریکٹوریٹ کی صفوں کو پر کرتے ہیں اور اتحادی افواج، مرد اور عورتیں کو جو اپنے افغان بھائیوں، بہنوں، بچوں، اور مستقبل کی نسلوں کو امید دینے کیلیے جنگ کیلیے رضاکارانہ پیشکش کرتے ہیں اور اپنا خون بہاتے ہیں۔

ہزاروں معززین، سربراہان مملکت اور افواج کے قائدین کابل آتے ہیں۔ کچھ افغان قومی حفاظتی افواج کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ کیا یہ لڑسکتے ہیں۔ سنیے، یہ لڑ سکتے ہیں۔ یہ ہارنے والے نہیں ہیں بلکہ انہوں نے جیتنے کا عزم کیا ہوا ہے۔ اور یہ ہر روز بہتر ہورہے ہیں۔ زیادہ مضبوط۔ زیادہ پراعتماد اور زیادہ تجربہ کار اور اپنے بارے میں زیادہ پریقین ہو رہے ہیں۔

پچھلے ماہ کے انتخابات کے بعد افغان فوج کے ایک سپاہی نے کہا کہ دشمن نے انتخابات کو روکنے کی کوشش کی، مگر وہ ناکام ہوگئے۔ ہم نے دنیا کو دکھا دیا کہ ہم طاقتور ہیں، کنٹرول ہمارے پاس ہے اور ہم دشمن کو شکست دے سکتے ہیں۔

 ۔ جنرل کولاک – خاص طور پر کابل میں یہ کیا شاندار سال رہا ہے۔

 ۔ حفاظتی افواج کا حکومت اور عوام کے ساتھ کام کرنا۔

 ۔ جون میں مشاورتی امن جرگہ۔

 ۔ جولائی میں کابل کانفرنس۔

 ۔ اور پچھلے ماہ قومی انتخابات۔

یہاں مشکل لمحات بھی تھے۔ جنوری کے وسط میں جب صدر کارزائی وزیروں سے حلف لے رہے تھے آپکو دشمنوں کا حملہ یاد ہوگا۔ یہ افغان قومی حفاظتی افواج تھی اتحادی فوج نہیں جو کہ فوری طور پر اپنے ساتھی افغانیوں کی مدد کو آئے اور یہ حفاظتی افواج جنکی تربیت اور تیاری میں آپ نے مدد کی ہے۔ اب بھی کچھ لوگوں کو تعجب ہے کے افغان افواج کب قیادت سنبھالیں گی۔ اس لمحے کابل میں اور دوسری جگہوں پر یہ قیادت کررہی ہیں۔

اگلے ماہ لزبن میں نیٹو کانفرنس میں ہمیں ایک بین الاقوامی معاہدے کی آگے آنے کی توقع ہے جبکہ افغان بتدریج اپنے ملک کی حفاظت کرنے میں سبقت لے رہے ہیں۔ یہ فیصلہ اس اگلے قدم کی نمائندگی کریگا جب 2014 میں حفاظت کی قیادت کی اتحاد سے افغان افواج تک منتقلی ہوگی، جیسا کہ صدر کارزائی طے کرچکے ہیں۔ 

ہمارے لیے اب سے اس وقت تک اب بھی کام باقی ہے۔ لیکن اگر ہم دیکھنا چاہیں کہ منتقلی کی شکل کیا ہوگی، تو کابل کی طرف دیکھیے۔

جنرل کولاک – ایک سال قبل ہم نے کہا تھا کہ آپکو اس بات کی بڑی سمجھ ہےکہ آپ اور آپکی شراکت دار افغان قومی حفاظتی افواج کو کس طرف جانے کی ضرورت ہے۔ بے شک، آپ نے انکو اس طرف جانے میں مدد کی ہے جہاں انہیں جانے کی ضرورت تھی اور اس سے بڑھکر جسکی ہم کبھی بھی آپ سے مانگ کرسکتے تھے۔

آپکے جنگ باز افغان عوام کی عزت، احترام، حددرجہ شفقت اور پیشہ ورانہ رویے کے ساتھ خدمت کرتے ہیں۔

لیوینٹ -  آج آپ فرض کے اس دورے کا اختتام کررہے ہیں مگر افغان عوام سے آپکا ذاتی عہد 2002 کے قریب اس مہم کے شروع ہونے تک پیچھے کی طرف جاتا ہے۔ اور آپکی مثال آپکی اپنی قوم کے افغانستان اور اسکی عوام کیلیے بےلوث خلوص اور ایک سو سالہ ملٹری کی روایت کی عکاسی کرتا ہے۔

 چاہے یہاں افغانستان میں ہوں یا ترکی میں، ترک قوم کی توجہ افغان عوام کی کامیابی میں مدد کیلیے اس اہم موقعے پر مرکوز ہے۔ اور ترکی کی طرح افغانستان سے اتحاد کا عہد بھی پائیدار ہے اور ہم طویل مدت کلیے افغان عوام کی مدد کے پابند ہیں۔ کسی کو بھی اور کم از کم دشمن کو اس میں شبہ نہیں ہونا چاہیے۔

جو یہ سمجھتے ہیں کہ افغان عوام اپنی قوم کو واپس باغیوں کے موت کے پنجے میں جانے دینگے، افغان عہد اور عزم کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

جنرل کولاک، الوداع۔ آپکا شکریہ۔ حفاظت کے ساتھ گھر جائیے۔ خُدا آپ پر اور آپکے خاندان پر رحمت کرے۔

جنرل ساسماز، خوش آمدید۔ آگے بہت سے مسائل ہیں۔ اور ہمیں اس پرجوش شراکت داری کے ساتھ کہ جسکا لطف یہ علاقائی کمان اٹھا رہی ہے ملکر ان سے نمٹنے کی توقع ہے ۔ خوش نصیبی آپ کا ساتھ دے۔