| افغان کمانڈر کا افغان قومی قید خانے کا دورہ | Array چھاپیے Array |
منجانب Master Sgt. Adam M. Stump, Combined Joint Interagency Task Force 435 شئیرمتعلقہ خبریںکابل، افغانستان 26 اکتوبر، 2010- مشترکہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس 435 (سی جے آئی اے ٹی ایف-435) کے افغان کمانڈر نے افغان قومی قید خانے (اے این ڈی ایف) کا 26 اکتوبر کو کاروائیوں کا مشاہدہ کرنے کے لیۓ دورہ کیا اور وہ فوجیوں سے ملے اور ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں گفتگو کی۔ افغان قومی فوج کے میجر جنرل مرجان شجاع نے تربیت، عمارت اور اے این ڈی ایف میں دونوں گارڈز اور قیدیوں کی رہائشی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد انھوں نے قید خانے کے سربراہوں سے ملاقات کی اور قید خانے کے اندر ترتیب سے کھڑے فوجیوں کے ایک گروہ سے بھی بات چیت کی۔ مرجان نے فوجیوں کو ہدایت کی کہ وہ اسلامی جمہوریہ افغانستان کے قوانین کے مطابق قیدیوں کے ساتھ مناسب سلوک روا رکھیں۔ جنرل نے کہا کہ آپ کو قیدیوں کے ساتھ عزت سے پیش آنا ہے۔ خدا آپکا گواہ ہو گا۔ آپ کو اپنی حدود کا علم ہونا چاہیے اور قانون جتنی اجازت دے اسکے مطابق ان کی مدد کریں۔ ہر لمحہ، ہر منٹ احتیاط برتیں۔ جنرل نے بنیادی نظم و ضبط کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ فوجیوں کو ہیمشہ یہ یاد رکھنا چاہیۓ کہ وہ اپنی ڈیوٹی کے لیۓ وقت پر آئیں اور اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے دوران ہوشیار رہیں۔ مرجان نے کہا کہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے دوران سخت رہیں۔ ہمیں اپنے ملک اور اس کے لوگوں پر فخر ہونا چاہیۓ۔ جنرل نے آفیسر کور کو سپاہیوں کے لیۓ ایک مثال قائم کرنے کی ہدایت کی۔ مرجان نے کہا کہ افسروں کو اپنا کام کرنے اور دوسروں کو ان کی ذمہ داریاں سکھانے کی ضرورت ہے اور مذید یہ کہا کہ سپاہی افغانستان کے تحفظ اور سیکیوریٹی کے لیۓ اہم کام سرانجام دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ذمہ داری ہماری ہے کہ ہم اپنے ملک کے لیۓ کام کریں۔ قیدیوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ایک اچھی زمہ داری ہے۔ افغان قومی فوج اس ملک کو محفوظ رکھنے کی ذمہ دار ہے۔ ہم افغانستان کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ مرجان نے گروہ کو بتایا کہ وہ دوبارہ واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ فوجیوں سے ان کے کام اور رہائش کی صورتحال کے بارے میں مذید گفتگو کی جا سکے۔ جنرل 1967 میں فوج میں شامل ہوۓ تھے اورپہلے پولی چرکی میں فرسٹ کور ٹینک بریگیڈ کے پلاٹون کمانڈر رہے اور پھر بعد میں اس کمپنی کے کمانڈر رہے۔ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے دوران ُانھوں نے کمپنی کے کمانڈر کے طور پر کام کیا اور ٹینک ڈرائیور اور گنرز اور کمانڈرز کے استاد کے طور پر بھی کام کیا۔ جنرل نے وزارت دفاع میں بھی مختلف حیثیت سے کام کیا۔ مرجان نے اپنی موجودہ ذمہ داریاں سی جے آئی اے ٹی ایف-435 کے افغان کمانڈر کی حیثیت سے 15 ستمبر سے سنبھالیں۔ سی جے آئی اے ٹی ایف-435 اسلامی جمہوریہ افغانستان اور امریکی انٹر ایجنسی اور بین الاقوامی ساتھیوں کی شراکت سے قید خانے میں اصلاحات، عدالتی سیکٹر اور بائیومیٹرکس کی کاروائیاں کرتا ہے۔ آخر کار سی جے آئی اے ٹی ایف-435 قید خانے کی کاروائیاں قانون کی بالادستی کے طریقہ کار کو بڑھاتے ہوۓ افغان کنٹرول میں دے دے گا۔ |