افغانستان میں بائیو میٹرکس آنے سے پہلے کانفرس اس کا راہ عمل کرتی ہے Array چھاپیے Array
منجانب Sr. Airman William O'Brien, Combined Joint Interagency Task Force 435

کابل، افغانستان 15 اکتوبر، 2010 – افغان امریکی فوج، اتحادی فوجیں اور شہری شراکت داروں نے اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت بائیو میٹرکس کی مکمل ذمہ داری اور کنٹرول سنبھالنے سے پہلے مشترکہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس 435 کے صدر دفتر میں 14 اکتوبر کو ایک کانفرنس میں اس کا راہ عمل طے کیا۔  

امریکی فوج کے کرنل کریگ اوسبورن نے کہا جو کہ ٹاسک فورس کے بائیو میٹرکس کمانڈر ہیں کہ اس کانفرنس کے ذریعے ہم صرف اہم ایجنسیوں، تنظیموں اور شخصیات کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس وقت افغانستان میں جاری بائیو میٹرکس کی کوششوں پر گفتگو کی جا سکے۔ ہم اپنے سیکھے گۓ سبق اور جو مشکلات ہمیں پیش آئیں ان کو سب کے ساتھ بانٹنا چاہتے تھے خاص طور پر افغان ساتھیوں کے ساتھ تاکہ افغان حکومت کی ہر ممکن موثر انداز میں مہیا شدہ ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی قوت کو یقینی بنایا جا سکے۔

بائیو میٹرکس افغانستان کی ایک خودمختار قوم ہونے کی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوۓ بارڈر کنٹرول کے ذریعے شہریوں اور قانونی طور پر داخل شدہ مسافروں کی شناخت میں مدد دیتی ہے۔

افغان نیشنل آرمی جنرل محمد انور منیری نے کہا جو کہ وزارت داخلہ کے بائیو میٹرکس کے ڈائریکٹر ہیں کہ  وزارت داخلہ کے بائیو میٹرکس سنٹر کا مقصد ایک محفوظ افغانستان ہے۔

مستقبل میں بائیو میٹرکس کا ڈاٹا الیکٹرانک تزکرہ، افغان شہریوں کے لیے ایک قومی شناخت کا ذریعہ بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔ وزارت اطلاعات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک نمائیندے نے الیکٹرانک تزکرے کو شخصی شناخت کا ایک ذریعہ قرار دیا جو بالآخر ووٹر رجسٹریشن اور گاڑیوں کی رجسٹریشن اور بنکوں کے لیۓ استعمال ہو سکے گا۔

اوسبورن نے کہا کہ اس بات پرتوجہ دینا بہت ضروری ہے کہ بائیو میٹرکس کا استعمال صرف تشدد پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کی شناخت تک محدود نہیں – یہ معاشرے کی ترقی کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے اور شہریوں کو بے شمار خدمات کے حصول میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ صرف ان لوگوں کو ڈھونڈنے کے لیے نہیں جنہوں نے غیر قانونی کام کیۓ ہیں، بلکہ یہ اس بات کو بھی ثابت کرتا ہے کہ کون قانون کی پابندی کرنے والے شہری ہیں۔

اوسبورن نے کہا کہ افغان یہاں تین چیزوں پر امریکی ساتھیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

ہم اپنے افغان ساتھیوں کی اپنے شہریوں کو جاننے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ افغانستان میں 1978 سے لے کر اب تک کوئی مردم شماری نہیں ہوئی، اس لیۓ اس کے قانونی شہریوں کی شناخت ایک مسلہ ہے۔

اوسبورن نے کہا کہ واضع طور پر یہ جاننا کہ کون اس کے شہری ہیں مستقبل میں افغان حکومت کو اپنے شہریوں کو درست طور موثر طور پر خدمات پہنچانے کے قابل بناۓ گا۔

اوسبورن نے کہا کہ اس کا دوسرا حصہ افغانستان کو اس کی سرحدوں کو کنٹرول کرنے میں مدد دے گا۔

واضع طور پر، بائیو میٹرکس کے ساتھ سیکیوریٹی کا عنصر بھی جڑا ہوا ہے اور یہ افغان حکومت کو اس کی سرحدوں کو موثر طورر پر محفوظ بنانے کے قابل بناۓ گا۔ بہت سے شر پسند افراد جو افغانستان کی حکومت کو اور ایساف اور اتحادی فوجوں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں سرحدوں کو روزانہ عبور کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر بائیو میٹرکس کی صلاحیت سرحدوں پر موجود ہو تو افغان حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیۓ تیار ہو گی کہ صرف قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد ہی افغان سرحدی چوکیوں سے اندر آ سکیں ۔

اوسبورن نے کہا کہ اس کا تیسرا حصہ جی آئی آر او اے کو اس بات کی اجازت دے گا کہ وہ "شناختی بالادستی" حاصل کر سکے"۔

بائیو میٹرکس افغان ایساف فورسز کو بالکل درست طریقے سے ان تشدد پسندوں اور باغیوں کو نشانہ بنانے کی اجازت دے گا جو افغانستان میں کاروائیاں کر رہے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ہمیں فنگر پرنٹس اور ڈی این اے لینے کا موقع دیتی ہے مثلا" دستاویزات اور ناکارہ آئی ای ڈی اور دوسرے منفی مواقعوں سے ملی شناختیں۔ مثلا"، اگر ایک ناکارہ ائی ای ڈی سڑک کے کنارے سے ملے تو ہم اس پر سے چھپے ہوۓ پرانے فنگر پرنٹس نکال سکتے ہیں اور پھر ان کو پہلے سے معلوم شدہ  شناختوں کے اپنے ڈیٹا بیس سے ملا کر دیکھ سکتے ہیں کہ اس آئی ای ڈی کو کس نے چھوا تھا، افغان حکومت نے اپنی وزارت داخلہ کے ذریعے اس طرح کی کاروائیوں کے لیۓ فورنزکس کی صلاحیتوں کے ساتھ ایک ڈیٹا بیس بنایا ہے۔ افغان ان موازنوں کو خود سر انجام دے سکتے ہیں ایساف یا اتحادی فوجوں کی مدد کے بغیر۔

اس وقت افغان دوسرے افغانیوں کو افغان حکومت میں کام کر رہے ہیں اور وہ جو افغان قومی فوج اور افغان نیشنل پولیس میں ہیں بھرتی کر رہے ہیں۔

جلد ہی افغان 000،1 بھرتی کا پروگرام شروع کیا جاۓ گا۔ افغان قیادت میں پروگرام جو کہ ایک بھرتی کے لیۓ ایک افغان ٹھیکیدار کے ذریعے افغان انرولرز اور سسٹم ایڈمنسٹریٹرز کو بھرتی کر کے افغان پالولیشن رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران کے ساتھ مل کر تمام افغانستان کی اہم سرحدی چوکیوں پر بائیو میٹرکس کا ڈاٹا اکٹھا کرے گا۔ بائیو میٹرکس میں حصہ لینا قانون کی پابندی کرنے والے شہریوں کے طور پر مکمل طور پر رضاکارانہ ہے، تاہم افغان شہریوں نے اس سسٹم میں حصہ لینے میں بے پناہ دلچسپی ظاہرکی ہے۔

اوسبورن نے کہا کہ افغان آلات کا استعمال کرتے ہوۓ افغان ڈیٹا بیس میں شمولیت کے لیۓ افغان 000،1 بھرتی کا پروگرام افغانیوں کو افغانیوں کے ذریعے اس میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرے گا ۔ یہ افغان حکومت کو اپنے شہریوں کی واضع شناخت کے قابل بناۓ گا۔

بائیو میٹرکس کو اکٹھا کرنے میں دس انگلیوں کے نشان، دو آنکھوں کی پتلیوں کے سکین اور چہرے کی تصاویر شامل ہیں۔ اس کو افغان آٹومیٹڈ بائیو میٹرکس شناخت کے سسٹم میں حفاظت سے منتقل کرنے سے قانون کی پابندی کرنے والے شہریوں کو باغیوں اور جرائم پیشہ افراد سے الگ کر دے گا۔ ڈیٹا بیس میں یہ شناختی حقائق پرانے ثبوت بشمول جاۓ وقوعہ سے اکٹھے کیے گۓ فنگر پرنٹس سے ملاۓ جا سکتے ہیں۔

اوسبورن نے کہا کہ بائیو میٹرکس ایک انفرادی شخص اور ایک طریقہ عمل کا حصہ ہے۔ ایک انفرادی شخص کے حصے کے طور پر اس میں خاص صفات ہیں – جیسا کہ انگلیوں کے نشانات، آنکھوں کی پتلیاں، بولنے کے اطوار – جو کہ اس ایک انفرادی شخص کی شناخت کرتا ہے۔  آپ کی آنکھوں کی پتلیاں صرف آپ ہی کی ہو سکتی ہیں اور دائیں پتلی بائیں سے فرق ہوتی ہے۔ نام بدلا جا سکتا ہے یا غیر قانونی و قانونی طور پر اس میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے لیکن ایک دفعہ جب آپ کی آنکھ کی پتلی جھ ماہ کی عمہ میں تشکیل پا جاتی ہے تو یہ نہ تبدیل کی جا سکتی ہے، نہ اس کی نقل بنائی جا سکتی ہے اور نہ ہی یہ نقلی بنائی جا سکتی ہے۔ ایک سلسلے کے طور پر بائیو میٹرکس انفرادی خصوصیات کا فورینزکس اور دوسری اطلاعات کے ساتھ ملاپ ہے۔ جب ان کو ملایا جاتا ہے تو آپ ایک شخص کو ایک واقع کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں۔

لمبی مدت کےمقصد کے تحت، افغان حکومت کو دو ڈیٹا بیس چلانا ہے، ایک جو کہ ایم او آئی کے تحت سیکیوریٹی اور مجرمانہ کاروائیوں کی تفتیش کے لیۓ برقرار رکھا جاۓ گا اور ایک جیسا کہ ووٹ ڈالنے، سول سروسز اور کاروباری لین دین کے لیۓ ایم سی آئی ٹی کے ذریعے سول اور اقتصادی استعمال کی غرض کے لیۓ شناخت کے لیۓ رکھا جائے گا۔