افغان رفقاء نے یوم اصلاحات کانفرنس میں ملاقات کی Array چھاپیے Array
منجانب Sr. Airman William O'Brien, Combined Joint Interagency Task Force 435

کابل، افغانستان (11 اکتوبر، 2010) — افغان شعبہ عدل، کثیر بین لاقوامی اور امریکی افسران نے11 اکتوبرکو کیمپ فینکس میں مشترکہ انٹرایجنسی ٹاسک فورس 435  کے صدر دفتر میں ریاست افغانستان کے یوم اصلاحات کانفرنس پر تبادلہ خیالات کے لیے ملاقات کی۔

تقریباً 50 سربراہان یوم اصلاحات کے موقعے پر صوبائی قید خانوں کو بہتر بنانے، افغان اصلاحی اداروں کی حالیہ حیثیت پر تبادلہ خیال کرنے اور مزید اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت کی اصلاحی مشکلات اور ضروریات کی شناخت کرنے اور انھیں ترجیح دینے کے لیے اپنے خیالات پیش کرنے کے لئے جمع ہوۓ۔

مرکزی قید خانہ ڈائریکٹوریٹ کے ڈآئریکٹر افغان قومی افواج کے لیفٹنٹ جنرل عامر محمد جمشید  نے کہا کہ قید خانے افغانستان کا ایک دشوار مسئلہ ہیں۔ یہ ایک اچھا آغاز ہو گا کہ  افغانستان کی ضروریات اور مطالبات کو سمجھا جاۓ۔

کانفرنس براۓ اصلاحات نے شرکاء کو افغان حکومت کی اصلاحی مشکلات کے بارے میں اضافی معلومات حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا، جبکہ پورے افغانستان میں منصوبہ بندی اور ذرا‏ئع رسل و رسائل کے قیام اور مشترکہ اصلاحی کاروائیوں کی کوششوں کو تقویت ملی۔ مجموعی طور پر حکمت عملی یہ ہے کہ انتہا  پسندوں کی بغاوت کو شکست دینے اور قانون کی  حکمرانی کے فروغ کےاہم مقصد کے  لئے ہم آہنگی سے اصلاحی کاروائیوں کو عمل میں لایا جاۓ۔ اتحاد، بہتری اور بجالی کے لئےاس حکمت عملی سے منسلک پرگراموں کی نگرانی کی جاۓ۔

امریکی نائب ایڈمرل، سی جے آئی ٹی ایف- 435 کے  رابرٹ ایس ہارورڈ نے کانفرنس کے شرکاء کا خیرمقدم کیا اور نئی قائم شدہ بین الایجنسی منصوبہ بندی اور نفاذ کی ٹیم کی وضاحت کی۔ اُنھوں نے بتایا کہ آئی پی آئی ٹی کے ممبران کیا کرتے ہیں اور یہ ٹیم افغانستان کے لئے آئندہ کے راہ عمل سے کس طرح وابستہ ہے۔ 

ہارورڈ نے کہا کہ آئی پی آئی ٹی کا قیام افغان رفقاء کے ساتھ منصوبہ بندی، وسائل کو ہم آہنگ کرنے اور  قانون کی حکمرانی کو  عمل میں لانے کے لئے حال ہی میں عمل میں آیا تھا۔

امریکی سفارت خانے میں منشیات اور نفاذ قانون براۓ افغانستان کے ڈائریکٹر بروس ٹرنر نے آئی این ایل  کی جانب سے پولیس، تفتیش کنندگان، مستغیثان اور جج  کو فراہم کی جانے والی تربیت اور اپنی تنظیم اور جمشید کی ڈائریکٹوریٹ کے کام کے تعلق کے بارے میں بتایا۔

ٹرنر  نے کہا کہ ہم  جنرل جمشید اور  ان کی ڈائریکٹوریٹ کے ساتھ قریبی تعلق سے پانچ سال سے کام کر رہے ہیں۔ ہماری توجہ روایتی طور پر اصلاحی پہلوؤں سے قانون کی حکمرانی پر مرکوز ہے جو کہ بنیادی طور پر افغان کے قید خانوں کے نظام، قید خانوں کی تعمیر میں مدد  اور ان کے محافظین کو تربیت میں مدد فراہم کرنے کے گرد گھومتا ہے۔

اس کانفرنس نے اصلاحات، صوبائی عدلیہ کے  مرکز کی حکمت عملیوں، دستیاب وسائل اور اسلامی جمہوریہ افغانستان کی ترجیہات اور اصلاحی مشکلات میں  آئی پی آئی ٹی  کے کردار کے بارے میں باہمی تفہیم فراہم کرنے کے لئے ناگزیر رفقاء کو یکجا کیا۔