| حیاتی شماریات کی صلاحیت میں اضافہ کر کے افغانی قدم آگے بڑھا رہے ہیں | Array چھاپیے Array |
|
منجانب Master Sgt. Adam M. Stump, Combined Joint Interagency Task Force 435 کابل، افغانستان - 8 اکتوبر 2010- افغانستان میں افغان کی قومی افواج مشترکہ سیکورٹی تبدیلی کی کمان خدمت انجام دینے والے ممبران کی تاکید کے مطابق تربیتی سپاہیوں کی بھرتی سے افغانستان کی حیاتی شماریاتی صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہے۔ سی ایس ٹی سی – اے حیاتی شماریات اور سیکورٹی کے مشیر امریکی فضائی افواج کے لیفٹنٹ کرنل کرس مارکیوری نے بتایا کہ اے این اے آر ای سی میں اندراجات سے ہمارے اس مشن کو فروغ ملتا ہے کہ افغانی اپنے بچوں کو حیاتی شماریاتی اندراج کروائيں تاکہ افغان قومی سیکورٹی افواج میں داخل ہونے والوں کی شناخت کو یقینی بنایا جا سکے۔ مار کیوری نے کہا کہ 70 سے 80 فیصد تربیتی سپاہیوں کو کابل کے فوجی تربیتی مرکز میں تربیت دی جاتی ہے اور ہر تربیتی اعادے یا کنداک میں تقریبا 14 سو تربیتی سپاہی حصّہ لیتے ہیں اور یہ دو ماہ اور 15 دنوں تک چلتی ہے۔ جب تربیتی سپاہی کے ایم ٹی سی پہنچتے ہیں تو جسمانی تجزیے کے لئے طبی مرکز پر رُکتے ہیں۔ وہ لوگ جو پڑھ سکتے ہیں ان کی مہارت کا امتحان لیا جاتا ہے، جبکہ باقی زیر تربیت افراد کو تجزیے کے لیے حیاتی شماریات کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ حیاتی شماریات کے تجزیہ کار افغان وزارت داخلہ کے انسٹرکٹر کی چار روزہ تربیتی کلاس میں شرکت کرتے ہیں۔ حال ہی میں ایک دن متعدد درجن تربیتی سپاہی اے این اے آر ای سی کی عمارت کے ہال میں قطار بنا کر اپنے حیاتی شماریات کے اندراج کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ جیسے ہی کوئی داخل ہوتا ہے اندراج کنندگان جسمانی ڈیٹا10/2/1 اکٹھا کرتے ہیں جو کہ 10 انگلیوں کے نشانات، دونوں آنکھوں کی پتلیوں کے تجزیے اور چہرے کے سامنے اور اطراف کے تاثرات پر مشتمل ہوتا ہے۔ حیاتی شماریاتی ڈیٹا اس کے بعد وزارت براۓ داخلی تحقیق جرائم کا شعبہ، حیاتی شماریات کو منتقل ہو جاتا ہے جو اس کے بعد اسے خود مختار حیاتی شماریات کے شناختی نظام براۓ افغان میں لوڈ کر دیتا ہے تاکہ جسمانی ریکارڈز کا اس کے ڈیٹا بیس سے موازنہ کیا جاۓ۔ کوئی بھی موازنہ جو کسی گزشتہ مجرمانہ ریکارڈ کو ظاہر کرے مزید تفتیش کے لیے ایم او آئی سی آئی ڈی کو بھیج دیا جاتا ہے۔ مارکیوری نے کہا کہ یہ کارکردگی مثالی ہے اور ان حالیہ 40 دنوں کے اندر اے این اے حیاتی شماریات کی اندراجی ٹیم نے5,231 علیحدہ اندراجات کئے ہیں جو کہ تقریباً ہر دن 130 کے قریب بنتے ہیں۔ مارکیوری نے کہا کہ وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں انھیں اس میں مہارت حاصل ہے۔ اے این اے آر ای سی کے حیاتی شماریاتی اندراج کے سربراہ نے کہا کہ اے این اے کی حیاتی شماریاتی ٹیم سپاہیوں کی تربیت کے لیے چھوٹے علاقوں ہرات اور مزار شریف کا سفر بھی کرتی ہے۔ مزار شریف کے آخری مشن کے دوران عبدل نے کہا کہ دو جسمانی اندراجی کٹس کے ساتھ چار انرولرز استعمال کئے گئے ہیں جس میں ایک ہفتے میں 755 حیاتی شماریاتی اندراجات کئے گئے ہیں۔ عبدل نے کہا کہ معاشرے میں حیاتی شماریات ایک ماہر اور موثر شعبہ ہے اور اس کا مقصد قیام، امن قائم اور ملک کو محفوظ رکھنا اور آگے چل کر بدعنوانی، انتظامی دھوکوں، مجرمانہ سرگرمیوں اور منشیات کے پھیلاؤ کو کم کرنا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ خاص طور پر ہم مجرموں کو معصوم لوگوں سے آسانی سے الگ کر سکتے ہیں کہ یہ قومی عوام کی شناخت کے لیے ایک موثر طریقہ ہے ۔ سی ایس ٹی سی – اے کے حیاتی شماریات کے مشیر براۓ وزارت دفاع امریکی فضائی افواج کے ٹیکنیشین سارجنٹ لاشونیڈا ولسن نے کہا کہ کیونکہ اے این اے آر ای سی کے انرولرز اتنے زیادہ تجربہ کار ہیں کہ حیاتی شماریات کے نمونے حاصل کرنے میں فی سپاہی 10 منٹ لگاتے ہیں۔ تربیتی سپاہی، حیاتی شماریاتی اندراجات اتحادی افواج کی معاونت اِس وجہ سے کرتے ہیں کیونکہ یہ نظام ان کے لیے پس منظر کے جائزے کے طور پر کام کرتا ہے۔ مارکیوری نے کہا کہ مقام جنگ کے مالکین چاہتے ہیں کہ اس امر کو یقینی بنایا جاۓ کہ جن لوگوں کو تربیت دی جا رہی ہے ان کا طبی معائنہ کیا جا چکا ہو، وہ محفوظ ہوں، جب وہ باہر ہوں تو گولی چلانے والوں کی قطار میں ہوں، وہ ہر وقت تذبدب یا مخمصے میں مبتلا نہ ہوں۔ |