قانون کی بالادستی کانفرنس افغانیوں اور انکے بین الاقوامی ساتھیوں کو قریب لائی Array چھاپیے Array
منجانب Master Sgt. Adam M. Stump, JTF 435

کابل افغانستان – 27 ستمبر کو افغان اپنے بین الاقوامی ساتھیوں اور امریکی ساتھیوں کے ساتھ تمام دنیا سے قانون کی بالادستی پر عمل کرنے والوں کو قریب لانے کے مقصد سے ملے۔

اس کانفرنس میں افغانستان کے قانونی سیکٹر، امریکی سفارتخانے، مختلف بین الاقوامی ساتھی اور مشترکہ انٹر ایجنسی ٹاسک فورس-435 سے درجنوں افراد اکٹھے ہوئے۔ 

افغان وزیر قانون حبیب اللہ غالب کانفرنس کے اہم افغان رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ اپنے بیان کے دوران غالب نے کہا کہ افغان قانون اس کے لوگوں کے لیۓ ہونا چاہیے اور حکومت کو افغانستان میں قانون کے نفاذ بشمول سیاسی انتظامیہ پر مرکوز ہونا چاہیے تاکہ موثر انداذ میں قانون کا نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔ غالب نے کہا کہ قانون کے ہر افسر کے پاس مناسب کوائف ہونے چاہیے اور افغانیوں کو افغانی قانون اور عدلیہ پر تربیت دینی چاہیے۔ غالب نے مذید کہا کہ امریکہ اور ایساف کے اتحادیوں کے ساتھ موثر ہم آہنگی کے لیۓ افغانستان کے قانونی افسروں کو ان کے ساتھ باہمی اعتماد کی بنیادوں پر مضبوط پیشہ ورانہ تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے۔    

قانون کی بالادستی اور نفاذ کے لیۓ افغانستان میں امریکہ کے سفیر ہانس کلیماور امریکی بحریہ کے نائب ایڈمرل رابرٹ ایس ہارورڈ، سی جے آئی اے ٹی ایف-435 کے کمانڈر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ قانون کی بالادستی کو بڑھانے کے لیۓ امریکی ساتھی کیسے افغانیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ امریکی سفارتخانے نے قانون کی بالادستی اور نفاذ کی ڈائیریکٹوریٹ بنائی تھی اور سی جے آئی اے ٹی ایف-435 نے اس کے تحت ایک ذیلی کمانڈ رول آف فیلڈ فورسزافغانستان بنائی تاکہ افغانستان میں قانون کی بالا دستی کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیۓ منصوبوں اور پروگراموں کو چلایا جا سکے۔ کلیم کے مطابق سب سے اہم تخلیق نئی شہری-فوجی انٹر ایجنسی منصوبہ بندی اور نفاذ کی ٹیم ہے جو کہ پورے افغانستان میں قانون کی بالادستی پر عمل کرنے والوں کو پالیسی کے بارے میں رہنمائی اور کاروائیوں میں مدد فراہم کرے گی۔

قانون کی بالادستی کانفرنس کے شرکاء مختلف ورکنگ گرو میں بٹے ہوۓ تھے، ان کی آستینیں چڑھی ہوئیں تھیں تاکہ وہ بورڈ پر اشکال بنا سکیں اور اُنھوں نے ترقی کو ماپنے اور اہم مشکلات کو حل کرنے کے طریقوں کے تبادلے ترتیب دیے تاکہ آگے جانے کا راستہ نکالا جا سکے۔

کانفرنس میں پورے افغانستان کی فیلڈ سائیٹ سے پریزنٹیشنز بھی شامل تھیں۔ یہ پریزنٹیشنز پولیس کی تفتیش کے دوران بہترین طریقے سے مدد، کیس بنانے، ججوں اور وکیلوں کی مدد کرنے اور عوامی مقدمے کرنے کے بارے میں تھیں۔

رول آف فیلڈ فورسز- افغانستان ایک افغان شہری-فوجی اور اتحادی کوشش ہے تاکہ افغان حکومت کو قانونی جواز مہیا کیا جا سکے۔ آر او ایل ایف ایف – اے فائدہ مند پروگراموں میں مدد کے لیۓ ایک طریقہ عمل کا نفاذ کرے گی۔

آر او ایل ایف ایف – اے کا مشن یہ ہے کہ افغان، اتحادی اور شہری-فوجی قانون کے نفاذ کی منصوبہ بندی کی ٹیموں کو افغانستان کے دور دراز کے علاقوں تک بڑھایا جا سکے، ضروری صلاحیتیں فراہم کی جا سکیں اور افغانیوں کو تحفظ فرہم کیا جا سکے تاکہ افغانستان کی دیوانی قانون کی صلاحیت کو بنایا اور افغان حکومت کے قانونی جواز کو بھی بڑھایا جا سکے۔