فوجیوں کی تربیت انہیں عراقی مشن کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے Array چھاپیے Array
منجانب , US Forces - Iraq

بغداد، عراق (فروری 24، 2010) – آئی کور عراق نے ایسی تربیتی مجموئی پیشکش کی ہے جو فوجیوں کو بدلتے ہوۓ عراق میں اپنا کردار سمجھنے میں مدد کرے گے۔

 

"استحکام کے آپریشن کی تبدیلی بنیادی طور پر ہمارے سوچنے کے طریقے کو بدل رہی ہے۔ اِسی طرح سے بنیادی طور پر ہمارا کردار بھی بدل جائے گا،" لیفٹیننٹ جنرل چارلس جیکوبی جونئیر، آئی کور کے کمانڈنگ جنرل اور امریکی فورسز عراق کے آپریشنز کے ڈپٹی کمانڈنگ جنرل نے کہا۔


آج کے افسران، نان کمیشنڈ، قبائلی سرداروں سے معاملات کےغیر معمولی کرداروں والے ممبران، عراقی سیکیوریٹی کو تربیت اور صوبائی تعمیر نو کی ٹیمیں عراقی لوگوں کے لیۓ بنیادی ضروریات کی تعمیر میں مدد کر رہی ہیں۔ یہ فوجی شاید عراقیوں کا امریکیوں سے واحد رابطے کا وسیلہ ہیں۔ اس لیۓ، ہر ایک امریکی فوجی کو امریکہ کی عراق کے ساتھ دیرپا دوستی کے لیۓ کردار ادا کرنا ہے۔ 

"سپاہی سے لے کر کپتان اور اس سے بھی اوپر کے افسران، یاد رکھیں کہ آپ اپنے ملک کے سفیر ہیں اور آپ شاید امریکہ کے واحد نمائندے ہیں اور عراقی فوجی، عراقی پولیس افسر یا 12 سالہ بچہ، امریکی عوام کا تعین آپ کو دیکھ کر کرتا ہے،" کیپٹن سکاٹ ایڈن، امریکی فورسز عراق انگیجمنٹ افسرنے کہا۔

ایڈن ان بہت سے فوجیوں میں سے ایک فوجی ہیں جو وڈیو میں اپنے عراق میں جانے کے تجربے بیان کرتے ہیں۔ سب سے بڑی تبدیلی جو انھوں نے اپنے آخری چکرسے لے کر اب تک دیکھی ہے وہ ائی ایس ایف کی منوبہ بندی اور  اس کو عملی جامہ پہناناے کی خودمختاری ہے، جو کہ امریکہ کو انخلاء کا موقع دیتی ہے۔

 

امریکی فوجیں آئی ایس ایف کومارچ میں ہونے والے قومی انتخابات کے لیۓ ابھی تک مشورے اور مدد فراہم کر رہی ہیں۔