امریکہ کے مرکزی کمان کے سربراہ کا کرغزستان میں دورہ Array چھاپیے Array
منجانب , U.S. Central Command

بدھ، 17 نومبر 2010 - میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کے مرکزی کمان کے سربراہ جنرل جیمز میٹیس اپنے پہلے دورہ کرغزستان پر پیر کے روز بشکک پہنچے۔

امریکہ کرغزستان کے دارالحکومت کے قریب واقع ماناس فضائیہ اڈے کو افغانستان کے میدان جنگ کو جانے والے جہازوں میں ایندھن برھنے کے لیے استعمال کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

جنرل میٹیس نے کرغزستان کے صدر روزا اوتنبیفا، وزیرِ دفاع ابیبلا کدبیردیدف اور سٹیٹ قومی سلامتی کی سروس کے سربراہ جنرل لیفٹیننٹ کینیشبک دوشنبیف اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔

بشکک کے خبررساں ادارے 24 کے جی کے مطابق فریقین نے کرغزستان میں امریکی فوج سرگرمیوں کے ممکنہ اقتصادی اثرات پر غور کیا۔

بشکک میں امریکی سفارتخانے کی پریس ریلیز کے مطابق جنرل نے ماناس بیس استعمال کرنے کی اجازت دینے اور کرغز حکومت کا افغانستان میں کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ امریکی کمانڈر اپنے دورے کے دوران ماناس ایئر بیس پر بھی گئے اور وہاں امریکی فوجیوں سے ملاقات کی۔

10 اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات کے نتیجے میں اکثریت حاصل کرنے والی بیشتر کرغز جماعتیں ایئر بیس کے امریکی استعمال کے مخالف ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ امریکی فوج کو ماناس سے نکالا جائے۔

ازبکستان نے جولائی 2005 کو اپنی کرشی ۔ کاناباد ایئر بیس، جو2001 سے افغانستان میں فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی تھی سے امریکی فوج کو نکال دیا تھا۔ تاہم اس کے کچھ عرصے بعد ہی امریکہ نے ایندھن برھنے کے لیے ماناس فضائیہ بیس استعمال کرنا شروع کر دی تھی۔